امریکہ کا آبنائے ہرمز آپریشن روکنے کا اعلان ایران امریکہ کشیدگی میں اہم موڑ
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی رہنمائی کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی پیش رفت کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا
یہ آپریشن جسے پراجیکٹ فریڈم کہا جا رہا تھا، چند روز قبل شروع کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد عالمی جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور تیل کی سپلائی کو بحال کرنا تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل دنیا بھر میں منتقل ہوتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معاشی دباؤ پیدا ہو رہا تھا
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے امریکی فیصلے کو پسپائی قرار دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی کوششوں میں ناکام رہا اور مسلسل مشکلات کے باعث اسے اپنا قدم پیچھے ہٹانا پڑا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے خطے میں ایران کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس صورتحال کو اپنی جیت کے طور پر پیش کرے گا تاکہ عالمی سطح پر اپنی طاقت دکھا سکے
ادھر امریکی وزیر خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا بڑا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اہم مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اب براہ راست تصادم کے بجائے مذاکرات کی طرف جانا چاہتا ہے۔ تاہم اس وقفے کے بعد صورتحال کس طرف جائے گی یہ ابھی واضح نہیں ہے
مستقبل کی صورتحال کیا خطے میں امن ممکن ہے
اسی دوران آسٹریلیا نے بھی ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت توانائی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس منصوبے کے تحت ملک میں ایندھن کا بڑا ذخیرہ قائم کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایران امریکہ کشیدگی کے باعث آسٹریلیا میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے
دوسری جانب چین میں بھی اہم ملاقات ہوئی ہے جہاں چینی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب سے بات چیت کی۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی طاقتیں ایران امریکہ تنازع کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے انتہائی حساس ہے اگر جہاز رانی مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور دنیا بھر میں مہنگائی بڑھے گی۔ اس لیے تمام ممالک اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کا آپریشن روکنے کا فیصلہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اگر یہ اقدام ایران کو مذاکرات کی میز پر لے آتا ہے تو خطے میں امن کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

