ایران کا جھکنے سے انکار، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ مزید شدت اختیار کر گئی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری اس شدید تنازع نے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری رہا جبکہ امریکہ کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں\
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک غیر معمولی بیان میں ہمسایہ ممالک سے معذرت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے حملوں سے کسی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچا ہے تو اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک پر حملے صرف اسی صورت میں کیے جائیں گے جب ان ممالک کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال کی جائے گی
اس بیان کے باوجود خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایرانی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فضائی اڈے اور بحرین میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ان حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے مختلف ممالک نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید فعال کر دیا ہےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بیان کو کمزوری قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو امریکہ ایران کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا
تیل کی قیمتوں میں تیزی، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے مختلف علاقوں میں ہزاروں حملے کیے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں ایران کے فوجی اڈوں، میزائل لانچنگ مقامات اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی کئی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے
خلیجی ممالک نے ایران کے حالیہ حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس کے دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور درجنوں ڈرون مار گرائے۔ سعودی عرب نے بھی ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی غلط اندازے کا شکار نہ ہو کیونکہ اس سے خطے میں مزید تباہی پھیل سکتی ہے
ترکیہ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ ترکیہ کی فضائی حدود کی طرف مزید میزائل فائر نہ کرے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کا بحران پیدا ہو سکتا ہے
دوسری طرف عالمی سطح پر بھی اس جنگ کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خلیج میں واقع اہم بحری راستے متاثر ہونے کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے
اسی دوران کئی ممالک اور عالمی تنظیمیں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے

