Sat. Jan 31st, 2026

بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستان کا تفصیلی مؤقف سامنے آ گیا

پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے اور مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور اس سے انحراف خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا۔ بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستان نے آبی حقوق اور کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ بھارتی پالیسیاں ہیں، الزامات بے بنیاد ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے اور مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے اور اس سے انحراف خطے کے امن کے لیے خطرناک ہوگا۔ بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستان نے آبی حقوق اور کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ بھارتی پالیسیاں ہیں، الزامات بے بنیاد ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

بھارت کے الزامات مسترد پاکستان کا سندھ طاس معاہدے پر دوٹوک مؤقف

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے اور مسئلہ جموں و کشمیر پر اپنے مؤقف کا ایک بار پھر واضح اور دوٹوک اعادہ کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارت ایسے بیانات دے کر خطے میں اپنی منفی پالیسیوں اور ہمسایہ ممالک کے خلاف عدم استحکام پیدا کرنے والے کردار سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے

دفترِ ترجمان کے مطابق بھارت کا یہ طرزِ عمل کسی طور قابلِ قبول نہیں، کیونکہ خطے میں کشیدگی اور بدامنی کی جڑ خود بھارتی پالیسیاں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو سرحد پار تخریبی کارروائیوں، پراکسی نیٹ ورکس کی سرپرستی اور خفیہ سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان مثالوں میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کا معاملہ بھی شامل ہے، جسے پاکستان میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی واضح مثال قرار دیا گیا

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جہاں بھارت مسلسل غیر قانونی اور جابرانہ فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کشمیری عوام کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کو حاصل کر سکیں

بھارتی بیانات سے توجہ ہٹانے کی کوشش دفترِ خارجہ

\بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر استحکام ممکن نہیں

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا تھا۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر اس معاہدے سے یک طرفہ طور پر انحراف کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہےبیان میں کہا گیا کہ معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور وعدوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی

وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع پر یقین رکھتا ہے مگر قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں بیانات اور جوابی بیانات کا سلسلہ جاری ہے اگرچہ رسمی روابط محدود ہیں، تاہم بعض بین الاقوامی مواقع پر مختصر سفارتی میل جول دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا تازہ مؤقف واضح پیغام ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر جیسے حساس معاملات پر کسی قسم کی دھمکی یا دباؤ قابلِ قبول نہیں، اور خطے میں امن صرف باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی ممکن ہے

متعلقہ پوسٹس