حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنوبی لبنان میں شدید جھڑپیں
لبنان کے دارالحکومت بیروت اور جنوبی علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جمعرات کے روز حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے مجاہدین جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کے خلاف بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ زمینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے اور سرحدی دیہات کو منظم انداز میں تباہ کر رہی ہے
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب دو مارچ کو حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل پر حملہ کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے، ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے
حزب اللہ کے بیان کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے سرحدی قصبے طیبہ میں داخل ہونے والی اسرائیلی فوج پر گھات لگا کر حملہ کیا اور ایک ٹینک تباہ کر دیا، اس کے بعد جب اسرائیلی فوج نے پیش قدمی جاری رکھنے کی کوشش کی تو حزب اللہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے حملہ کر کے مزید پانچ میرکوا ٹینک تباہ کر دیے، بیان میں کہا گیا کہ دشمن کے فوجی میدان چھوڑ کر بھاگتے ہوئے دیکھے گئے
ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان میں محدود زمینی کارروائیاں شروع کی ہیں، ایک فوجی ذریعے کے مطابق اسرائیلی افواج روزانہ ایک یا دو کلومیٹر آگے بڑھتی ہیں اور جس علاقے میں داخل ہوتی ہیں
اسرائیل کی شہریوں کو انخلا کی وارننگ اور بفر زون کا منصوبہ
وہاں کی عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیتی ہیں، کفر کلا اور عیترون جیسے قصبوں میں شدید تباہی دیکھی گئی ہے جہاں فضائی حملوں اور گولہ باری کے بعد بلڈوزروں کے ذریعے باقی ماندہ ڈھانچوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خیام اور طیبہ میں ایک نہایت پرتشدد رات کی اطلاع دی جہاں کئی فضائی حملے کیے گئے اور بھاری توپ خانے سے گولہ باری صبح تک جاری رہی، حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے خیام میں اسرائیلی پیش قدمی کو بھی ناکام بنا دیا ہے جبکہ یہ علاقہ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کے اہم حصے پر نظر رکھتا ہے
اسرائیل نے زہرانی دریا کے جنوب میں رہنے والے تمام شہریوں کو علاقے خالی کرنے کی وارننگ دی ہے اور وہاں ایک بفر زون قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ شمالی اسرائیل کے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، اقوام متحدہ کے امن مشن نے بھی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے
دوسری جانب کویت میں بھی صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں حکام نے حزب اللہ سے منسلک مبینہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم حزب اللہ نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا کویت میں کسی قسم کا کوئی نیٹ ورک یا منصوبہ موجود نہیں ہے، اس تمام صورتحال نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا دیا ہے اور مشرق وسطیٰ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے

