Sat. Jan 31st, 2026

غزہ میں امن کے لیے عالمی تعاون پوتن اور ٹرمپ کا منصوبہ

وس کے صدر ولادیمیر پوتن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیادت میں امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور غزہ میں قیام امن اور تعمیر نو کے منصوبوں میں تعاون کی توقع ہے" غزہ میں امن کے لیے عالمی تعاون: پوتن اور ٹرمپ کا منصوبہ "امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کو غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور پوتن کی شرکت عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرے گی" روس اور امریکہ کا مشترکہ امن بورڈ: غزہ کی بحالی میں کردار "روس اور امریکہ عالمی امن بورڈ کے ذریعے غزہ میں انسانی بحران کم کرنے اور تعمیر نو کے منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں"
وس کے صدر ولادیمیر پوتن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیادت میں امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور غزہ میں قیام امن اور تعمیر نو کے منصوبوں میں تعاون کی توقع ہے" غزہ میں امن کے لیے عالمی تعاون: پوتن اور ٹرمپ کا منصوبہ "امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کو غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور پوتن کی شرکت عالمی تعاون کو مزید مضبوط کرے گی" روس اور امریکہ کا مشترکہ امن بورڈ: غزہ کی بحالی میں کردار "روس اور امریکہ عالمی امن بورڈ کے ذریعے غزہ میں انسانی بحران کم کرنے اور تعمیر نو کے منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں"

پوتن کو امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم کیے جانے والے امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اس بورڈ کا مقصد عالمی سطح پر جاری تنازعات کو حل کرنا اور خاص طور پر غزہ میں قیام امن اور تعمیر نو کے منصوبوں کی نگرانی کرنا ہے کریملن نے پیر کے روز اس دعوت کی تصدیق کی ہے

پوتن کی قیادت میں روس نے کئی سالوں تک مشرق وسطی کے اہم ممالک بشمول اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن غزہ میں موجودہ تنازع اور یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پوتن نے اسرائیل سے فاصلے بڑھائے ہیں اور اس کے مخالف ممالک جیسے ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں

روس نے اس دوران خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش بھی کی ہے تاکہ مغربی دنیا میں بڑھتی ہوئی تنہائی کے اثرات کم کیے جا سکیں روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن کو بھی اس امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور روس واشنگٹن کے ساتھ اس پیشکش کی تمام باریکیوں کو واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے

کریملن نے یہ نہیں بتایا کہ پوتن اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں لیکن امریکی انتظامیہ نے دنیا کے مختلف رہنماؤں بشمول پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ وہ اس بورڈ میں شامل ہو سکیں اس بورڈ کی سربراہی امریکی صدر خود کریں گے

غزہ میں انسانی بحران اور روس کی مدد

پوتن نے ماضی میں ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف کی ہے کہ وہ طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ کی کوششوں کے مطابق کامیابی حاصل ہو گئی تو یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا

یوکرین پر حملے اور غزہ کے تنازع نے روس کے اسرائیل کے ساتھ روایتی دوستانہ تعلقات پر اثر ڈالا ہے جہاں بڑی تعداد میں روسی نسل کے افراد آباد ہیں کریملن نے اسرائیل کے ردعمل پر متعدد بار تنقید کی ہے اور صبر و تحمل کی اپیل کی ہے

پوتن نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے ملاقات کے دوران کہا کہ غزہ کی پٹی ایک حقیقی انسانی المیے کا شکار ہے اور روس فلسطینی عوام کا دوست ہونے کے ناطے ان کی مدد جاری رکھے گا انہوں نے روس کی طرف سے باقاعدہ امداد کی فراہمی کا بھی ذکر کیا

یہ دعوت پوتن کے لیے عالمی سطح پر روس کے کردار کو مزید مضبوط کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ عالمی امن کے لیے مختلف ممالک کے رہنماؤں سے تعاون چاہتا ہے امن بورڈ کے قیام سے نہ صرف غزہ میں انسانی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ دنیا بھر میں جاری پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک نیا پلیٹ فارم تیار ہوگا

اس پیشکش کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں ایک ساتھ بیٹھ کر امن قائم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں اور اس میں روس کی شرکت سے مذاکرات میں توازن اور نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں

متعلقہ پوسٹس