غزہ میں فلسطینیوں کے لیے نئی سرحدی پابندیاں
غزہ کے لوگ ایک بار پھر اہم صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود کرے گا تاکہ زیادہ لوگ باہر نکل سکیں اور کم لوگ واپس آ سکیں یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب رفح سرحد اگلے ہفتے کھلنے والی ہے
رفح سرحد غزہ میں رہنے والے دو ملین سے زائد لوگوں کے لیے بنیادی راستہ ہے یہ سرحد پہلے بھی کچھ دنوں کے لیے کھلی رہی تھی اور اس دوران فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار اور یورپی یونین کے نمائندے نگرانی کرتے رہے تھے اس بار بھی سرحد کھلنے پر انہی کی نگرانی متوقع ہے
اسرائیل نے پہلے بھی فلسطینیوں کو غزہ چھوڑنے کی ترغیب دی ہے لیکن وہ زبردستی کسی کو نکالنے سے انکار کرتے ہیں فلسطینی اس بات کے حساس ہیں کہ کوئی انہیں زبردستی باہر نکال دے یا جو لوگ عارضی طور پر جائیں انہیں واپس آنے کی اجازت نہ دی جائے اس لیے اس مسئلے پر تناؤ موجود ہے
اسرائیل کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ قائم کی جائے گی جس کے ذریعے ہر شخص جو سرحد سے اندر یا باہر جائے گا اُس کی سیکورٹی جانچ ہوگی یہ قدم بھی تنازع کا سبب بن سکتا ہے لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف سیکیورٹی کی خاطر ہے
عالمی ذرائع اور کچھ نامعلوم ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اسرائیل کیسے داخلے کی تعداد پر پابندی لگائے گا یا کس تناسب سے لوگ باہر نکلیں اور واپس آئیں غزہ میں رہنے والے لوگ اس بات کے لیے فکرمند ہیں کہ کہیں وہ عارضی طور پر باہر جانے کے بعد واپس نہ آ سکیں
اسرائیل کی فوجی چیک پوسٹ کا منصوبہ
اسرائیل اور حماس کے درمیان پچھلے سال ایک عارضی جنگ بندی بھی ہوئی تھی جس کے دوران رفح سرحد کچھ دنوں کے لیے کھلی رہی تھی اس دوران فلسطینی اتھارٹی کے اہلکار اور یورپی یونین کے نمائندے سرحد کی نگرانی کرتے رہے یہ تجربہ اس بار بھی دہرایا جا رہا ہے تاکہ حالات پر قابو پایا جا سکے
واشنگٹن نے حال ہی میں اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اسرائیل فوج کو غزہ سے مزید پیچھے ہٹائے گا اور حماس کو غزہ کی انتظامیہ میں کنٹرول کم کرنا ہوگا یہ اقدام علاقے میں قیام امن کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے
غزہ میں رہنے والے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کہ وہ کب، کیسے اور کن حالات میں باہر جا سکتے ہیں اور واپس آ سکتے ہیں اسرائیل کے اقدامات اور سرحد کے انتظامات کا اثر عام شہریوں پر براہ راست پڑے گا اس لیے یہ معاملہ نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی نوعیت کا بھی ہے
غزہ کے باشندے چاہتے ہیں کہ سرحد کھلنے کے دوران انہیں آسانی اور تحفظ حاصل ہو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور کوئی بھی فیصلہ زبردستی نہ کیا جائے امن اور تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کو یقینی بنانا اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے

