امریکہ میں ایران پالیسی پر شدید سیاسی کشمکش
امریکہ کی داخلی سیاست میں ایک بار پھر ایران سے متعلق پالیسی کے باعث شدید بحث دیکھنے میں آئی ہے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کو کانگریس کی جانب سے چیلنج کیا گیا تاہم ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد صدر کو اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔ اس فیصلے نے امریکی سیاست میں صدر کے اختیارات اور کانگریس کے آئینی کردار کے درمیان جاری کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے
ایوان نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ میں دو سو انیس ارکان نے اس قرارداد کے خلاف جبکہ دو سو بارہ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس قرارداد کا مقصد یہ تھا کہ صدر کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بڑھانے سے پہلے کانگریس کی باقاعدہ منظوری لینا لازمی قرار دیا جائے۔ تاہم قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکی حکومت کو موجودہ حکمت عملی جاری رکھنے کا راستہ مل گیا ہے۔ اس سے قبل سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کی ایک کوشش ناکام ہو چکی تھی
قرارداد پیش کرنے والے ارکان کا مؤقف تھا کہ آئین کے مطابق جنگ یا بڑے فوجی اقدامات کی منظوری دینا کانگریس کا بنیادی اختیار ہے اور اس اختیار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ارکان نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ملک کے خلاف جنگ یا وسیع فوجی کارروائی کی جائے تو اس کے لیے عوام کے منتخب نمائندوں کی اجازت ضروری ہے تاکہ فیصلے شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں کیے جا سکیں
صدر ٹرمپ کا ایران کی مستقبل کی قیادت پر حیران کن بیان
قرارداد کے حامی ارکان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ابھی تک ایسا کوئی فوری خطرہ سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر کانگریس کی منظوری کے بغیر طویل فوجی کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ان کے مطابق اس تنازع میں پہلے ہی امریکی فوجیوں اور عام شہریوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے حامی ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں صدر کے اختیارات کو محدود کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی افواج کو خطرات کا سامنا ہے اور صدر کو فوری فیصلے کرنے کے لیے مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ ان ارکان کا کہنا تھا کہ اگر صدر کے اقدامات کو محدود کیا گیا تو دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے
اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایران کی مستقبل کی قیادت کے بارے میں بھی غیر معمولی بیان دیا جس نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران میں ممکنہ قیادت کی تبدیلی کے معاملے میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ صدر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران میں ایسی قیادت سامنے آئے جو ملک کے عوام کے لیے بہتر ہو اور خطے میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ، حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ
صدر کے اس بیان پر ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے اسے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کو ایران کی قیادت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ امریکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے اور حالیہ حملوں کے نتائج سامنے آئیں گے
ادھر خطے میں صورتحال مسلسل کشیدہ ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تہران سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے بھی کیے گئے ہیں جن کا ہدف اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود فوجی تنصیبات بتائی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع مزید وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے
مبصرین کے مطابق امریکہ کے اندر جاری سیاسی اختلافات کے باوجود ایران کے ساتھ جاری تنازع آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا اہم موضوع بنا رہے گا کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سلامتی اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں

