پاکستان اور سات مسلم ممالک کی اسرائیلی پابندیوں کی شدید مذمت
پاکستان اور سات مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مقدس مقامات پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے، اس مشترکہ مؤقف نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے
انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے عبادت کی آزادی پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں انہوں نے واضح کیا کہ القدس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو عبادت سے روکنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر مسجد الاقصیٰ میں داخلے پر پابندی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا
بیان میں کہا گیا کہ مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور یہاں عبادت ہر مسلمان کا بنیادی حق ہے اسرائیل کی جانب سے ان پابندیوں سے نہ صرف مذہبی آزادی متاثر ہو رہی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے القدس کی موجودہ صورتحال عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے
وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کو القدس میں تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کی حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے
عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ
مشترکہ بیان میں رمضان کے دوران مسجد الاقصیٰ کے دروازے بند کرنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، اس اقدام کو نہ صرف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا قرار دیا گیا بلکہ اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی بھی کہا گیا وزرائے خارجہ نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ ان پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے، مسلمانوں کو مسجد الاقصیٰ میں عبادت کی مکمل آزادی دی جائے اور القدس میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے
بیان میں واضح کیا گیا کہ القدس ایک متنازع علاقہ ہے اور اسرائیل کو وہاں مکمل اختیار حاصل نہیں، اس لیے اسے ایسے اقدامات سے باز رہنا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہوں، وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی مکمل حمایت کرتے ہیں
یہ مشترکہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم ممالک مسجد الاقصیٰ اور القدس کے معاملے پر متحد ہیں، انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی تو اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، اس مسئلے کا حل صرف انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ہی ممکن ہے

