Wed. Mar 18th, 2026

پاکستان نے کابل اسپتال حملے کے افغان طالبان الزامات مسترد کر دیے

پاکستان نے افغان طالبان کے کابل اسپتال حملے کے الزامات مسترد کر دیے وزارت اطلاعات کی وضاحت: افغان طالبان کے دعوے بے بنیاد آپریشن غضب للحق میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا عطا اللہ تارڑ کی تصدیق: کسی اسپتال یا شہری مرکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا افغان طالبان جھوٹ پھیلا رہے ہیں، پاکستان کا مؤقف واضح سیٹلائٹ شواہد سے کابل اسپتال پر حملے کے دعوے جھوٹ ثابت اقوام متحدہ اور چین کی پاکستان-افغانستان کشیدگی پر اپیل شمالی وزیرستان اور خیبر میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائیاں پاکستان کی سرحدی حفاظت: دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات افغان طالبان کے دعوے مسترد، حقیقت منظر عام پر آ گئی
پاکستان نے افغان طالبان کے کابل اسپتال حملے کے الزامات مسترد کر دیے وزارت اطلاعات کی وضاحت: افغان طالبان کے دعوے بے بنیاد آپریشن غضب للحق میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا عطا اللہ تارڑ کی تصدیق: کسی اسپتال یا شہری مرکز کو نشانہ نہیں بنایا گیا افغان طالبان جھوٹ پھیلا رہے ہیں، پاکستان کا مؤقف واضح سیٹلائٹ شواہد سے کابل اسپتال پر حملے کے دعوے جھوٹ ثابت اقوام متحدہ اور چین کی پاکستان-افغانستان کشیدگی پر اپیل شمالی وزیرستان اور خیبر میں دہشت گرد ٹھکانوں پر کارروائیاں پاکستان کی سرحدی حفاظت: دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات افغان طالبان کے دعوے مسترد، حقیقت منظر عام پر آ گئی

پاکستان نے کابل اسپتال پر حملے کے افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے کابل میں ایک اسپتال کو نشانہ بنانے کے الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے سے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے حکام کے مطابق کارروائی کا اصل ہدف کیمپ فینکس تھا جو ایک فوجی نوعیت کا مقام ہے اور مبینہ اسپتال سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے

یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب پاکستان نے سرحد پار حملوں کے جواب میں آپریشن غضب للحق شروع کیا جس کا مقصد دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے حکومتی بیان کے مطابق اس آپریشن کے دوران صرف ان مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو دہشت گردی کی منصوبہ بندی تربیت اور معاونت میں استعمال ہو رہے ہیں

وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جس امید اسپتال کا ذکر افغان طالبان کر رہے ہیں وہ درحقیقت ایک الگ مقام پر موجود ہے جبکہ جس جگہ کو نشانہ بنایا گیا وہ اسلحہ اور فوجی سازوسامان کے ذخیرے کے طور پر استعمال ہو رہی تھی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے یہ فرق بھی نمایاں کیا گیا تاکہ حقائق عوام کے سامنے واضح رہیں

مزید یہ بھی سوال اٹھایا گیا کہ اگر واقعی کوئی بحالی مرکز موجود تھا تو وہ کسی فوجی کیمپ کے اندر مہلک اسلحے کے ذخیرے کے ساتھ کیوں قائم تھا اس حوالے سے افغان طالبان کی جانب سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا جو ان کے مؤقف کو مزید مشکوک بناتا ہے

عطا اللہ تارڑ کی وضاحت صرف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں مکمل طور پر درست اور پیشہ ورانہ انداز میں کی جا رہی ہیں انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ صرف دہشت گردی سے جڑے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا ہے ان کے مطابق جاری کردہ ویڈیوز اور شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اہداف کا انتخاب انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا گیا

دوسری جانب اقوام متحدہ کے اداروں نے کابل میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے تاکہ حقیقت سامنے آسکے چین نے بھی پاکستان اور افغانستان دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے

ادھر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران خیبر سیکٹر کے قریب افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا اور شمالی وزیرستان میں ایک اہم پوسٹ کو بھی تباہ کیا گیا ان کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے خطرات بدستور موجود ہیں اور ان کا سدباب کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جائے گا اور شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا

متعلقہ پوسٹس