اسلام آباد ہائی کورٹ نے اعزاز احسن کے وکالت نامے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دے دی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز وکیل اعلیٰ اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے لیے سینئر وکیل بیرسٹر اعزاز احسن کے وکالت نامے پر دستخط کروانے میں تعاون کریں، یہ کام عدیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے کیا جائے
اس پر مشتمل ڈویژن بینچ جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو شامل تھے، نے سینئر وکیل لطیف کھوسہ کو بھی ہدایت دی کہ وہ اگلی سماعت پر متعلقہ جیل کے قواعد کے حوالے سے عدالت کی معاونت کریں
عدالت نے یہ ہدایات توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف اپیل سے متعلق علاج کے لیے ہسپتال منتقلی کی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کی
سماعت کے دوران بیرسٹر اعزاز احسن، لطیف کھوسہ اور دیگر وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اعزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ وہ کیس میں وکالت نامہ جمع کروانا چاہتے ہیں مگر یہ دستاویز ابھی تک دستخط شدہ نہیں ہے
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا وہ سماعت ملتوی کروانا چاہتے ہیں تو اعزاز احسن نے کہا کہ وہ کسی تاخیر کے خواہاں نہیں ہیں۔ عدالت نے وکیل اعلیٰ اسلام آباد کو ہدایت دی کہ وکالت نامہ جیل حکام کے ذریعے دستخط کروا دیں
لطیف کھوسہ اگلی سماعت میں جیل قواعد کی وضاحت کریں گے
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے وکیل امجد پرویز کو وکیل اعلیٰ پنجاب مقرر کر دیا گیا ہے اور نئے وکیل کی تعیناتی کے لیے انہیں دو تین دن درکار ہیں
وکیل اعلیٰ اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ پہلے ہی جمع کروائی جا چکی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ یہ رپورٹ پہلے درخواست گزار کے ساتھ شئیر کی جانی چاہیے تھی
لطیف کھوسہ نے عدیالہ جیل حکام کی رپورٹ پڑھ کر سنائی جس میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اب تک وہ 26 دن قید میں گزار چکے ہیں
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی کی آنکھ کی بیماری کے حوالے سے باقاعدہ طبی معائنہ ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بھی دو بار علاج کے لیے لے جایا گیا
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کے بانی کا معائنہ جیل میں کیا گیا اور بعد میں وہ انسٹیٹیوٹ لے جا کر انجیکشن کے لیے ٹریٹمنٹ کرایا گیا
لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ سلمان سفدر نے پہلے سپریم کورٹ میں دوست عدالت کے طور پر ایک رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں عمران خان کی آنکھ کے علاج کی ضرورت بتائی گئی اور رپورٹ میں کہا گیا کہ علاج میں تاخیر سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے
عدالت کا معاملے کا جائزہ اور ممکنہ ریلیف کی تشریح
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں پانچ دن تک علاج کی اجازت نہیں دی تھی اور بعد میں اس معاملے پر پریس ریلیز جاری کی
عدالت نے جب استفسار کیا کہ درخواست میں کیا ریلیف مانگا گیا ہے تو کھوسہ نے بتایا کہ درخواست میں پی ٹی آئی عمران خان بانی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کے افراد تک رسائی کی سہولت مانگی گئی ہے
وفاق نے پی ٹی آئی کے بانی کی شفا ہسپتال منتقلی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا
وکیل اعلیٰ نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی پر مشتمل طبی بورڈ پہلے ہی عمران خان کے آنکھ کے علاج کے لیے تشکیل دیا گیا ہے اور دوست عدالت کی رپورٹ کے مطابق کوئی ہدایت نہیں دی گئی
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ عدالت اس معاملے کا جائزہ لے گی اور لطیف کھوسہ سے استفسار کیا کہ عدالت کیا ریلیف دے سکتی ہے
بینچ نے کھوسہ سے ہدایت کی کہ وہ متعلقہ جیل قواعد کے حوالے سے عدالت کی رہنمائی کریں۔ کھوسہ نے کہا کہ وہ بدھ تک تیاری کریں گے

