اسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت نے عمران خان کے خلاف مقدمہ مسترد کر دیا
اسلام آباد عدالت نے عمران خان کے خلاف مقدمہ مسترد کر دیا ہے، جس کی وجہ پہلے کی بریت ہے اس فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے قانونی مسائل میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت میں منگل کو پولیس نے عمران خان کے خلاف نیا چارج شیٹ پیش کیا تھا جبکہ وہی مقدمہ پہلے ہی بری ہو چکا تھا عمران خان اگست دو ہزار تئیس سے جیل میں قید ہیں اور ان پر ایک ارب نوے کروڑ روپے کے کرپشن کیس میں سزا سنائی گئی ہے اس کے علاوہ وہ مئی دو ہزار تئیس کے مظاہروں کے حوالے سے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت زیر سماعت مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں
پیش کیے گئے نئے چارج شیٹ کا تعلق ترنول پولیس اسٹیشن میں درج مقدمہ سے تھا جو حقیقی آزادی مارچ کے دوران مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات سے متعلق تھا یہ مارچ نومبر دو ہزار بائیس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران حکومت کے خاتمے کے بعد منعقد کیا گیا تھا عدالت کی سماعت جسٹس شاہزاد خان نے کی جبکہ وکلاء سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار عمران خان کی نمائندگی کر رہے تھے
عمران خان اگست 2023 سے ایڈیالا جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اور ان پر دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں
دفاعی وکلاء نے کیس کی غیر معمولی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملزم کو بری کرنے کے بعد اسی مقدمے میں نیا چارج شیٹ پیش کیا گیا ہو عدالت نے وکلاء کو ہدایت کی کہ پچھلے عدالت کے فیصلے کی نقول پیش کی جائیں وکلاء نے بریت کا حکم جمع کروایا جس کے بعد عدالت نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مقدمہ پہلے کی بریت کی بنیاد پر مسترد کر دیا
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جون دو ہزار چوبیس میں اسلام آباد کی ضلعی اور سیشن عدالت نے عمران خان، شاہ محمود قریشی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو حقیقی آزادی مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے دو مقدمات میں بری کر دیا تھا
ان مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں پر توڑ پھوڑ اور دفعہ ایک سو چون کی خلاف ورزی کے الزامات تھے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں علی محمد خان اور اسد عمر نے عدالت میں پیش ہو کر بریت کی درخواستیں جمع کروائیں اور دیگر رہنماؤں کی بریت کی درخواستیں منظور کی گئیں
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کیے گئے
یہ عدالتی فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر سامنے آیا کیونکہ پارٹی رہنماؤں کو متعدد مقدمات کا سامنا تھا اور اب ایک اہم مقدمہ پہلے کی بریت کی بنیاد پر ختم ہو گیا ہے گولڑا پولیس اسٹیشن نے بھی سابق حکومتی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے دوران دفعہ ایک سو چون کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا تھا
اسلام آباد عدالت کا یہ فیصلہ عدالتی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے کیونکہ کسی بھی ملزم کے خلاف نئے چارج شیٹ پیش کرنے سے پہلے پچھلی بریت کو مد نظر رکھا گیا ہے اور اس سے عدالتی عمل میں شفافیت اور انصاف کی ضمانت مضبوط ہوئی ہے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماؤں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عدالتی فیصلہ قانونی تقاضوں کی روشنی میں پارٹی کے حق میں ہے
عمران خان کے قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے پارٹی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی کارروائیوں میں توازن پیدا ہوا ہے اور عدلیہ نے اپنی غیر جانبداری کا ثبوت دیا ہے اس فیصلے کے بعد پارٹی رہنماؤں کی قانونی ٹیم مزید مقدمات میں دفاع کی تیاری کر رہی ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے یہ فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ قانونی کارروائیوں میں سابقہ فیصلوں کو مد نظر رکھنا انصاف کا تقاضہ ہے اور اس سے سیاسی تنازعات میں عدلیہ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے

