اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کے ایکاؤنٹ کیس میں وکیل کی رسائی پر سوالات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی سوشل میڈیا ایکاؤنٹ سے متعلق کیس میں اہم سوالات اٹھا دیے ہیں عدالت نے دریافت کیا کہ اگر وکیل کو اپنے مؤکل تک رسائی نہیں دی جا رہی تو کیس کیسے آگے بڑھ سکتا ہے
عدالت کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ کسی بھی مقدمے میں قانونی کارروائی تب تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وکیل اپنے مؤکل سے ملاقات نہ کرے سماعت میں پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہیں اپنے مؤکل سے مشاورت کا موقع نہیں دیا گیا اور وہ کیس کے حوالے سے ضروری بات چیت نہیں کر سکے
عدالت نے راجہ سے کہا کہ اگر آپ اپنے مؤکل سے ملاقات کر لیں تو کیس میں حتمی دلائل اٹھائی جائیں گی اور فریقین کی رائے سنی جائے گی سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی اے اور جیل حکام کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا جائزہ لیا اور ان میں ناکافی معلومات پر اظہار عدم اطمینان کیا
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو یاد دلایا کہ ہائی کورٹ نے نومبر میں جیل حکام کو ہدایت دی تھی کہ وکیل کو مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود یہ ہدایت نافذ نہیں کی گئی اس پر عدالت نے ریاستی وکیل کو ہدایت دی کہ وہ تحریری جواب جمع کرائیں تاکہ عدالت کو صورتحال واضح طور پر معلوم ہو
عدالت نے واضح کیا کہ کیس صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکے گا جب وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے عدالت نے مزید کہا کہ ملاقات نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی رک جائے گی اور مؤکل کے حقوق متاثر ہوں گے
عدالت نے پی ٹی اے اور جیل حکام کی رپورٹس کو ناکافی قرار دیا
یہ کیس ایک شہری غلام مرتضی خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے باعث کھڑا ہوا ہے جس میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم کے ایکاؤنٹ سے دوران قید اشتعال انگیز مواد شائع ہو رہا ہے اور یہ قیدی قوانین کے خلاف ہے درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت دی جائے کہ وہ ایکاؤنٹ کی تحقیقات کریں اور سوشل میڈیا پر شائع مواد کو بلاک یا ہٹایا جائے
عدالت نے جیل حکام کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ قیدی کو موبائل فون یا کسی بھی غیر قانونی آلے تک رسائی نہیں ہے اور وہ سخت نگرانی میں ہیں تاہم عدالت نے یہ جواب ناکافی قرار دیا اور مزید وضاحت طلب کی
سابق وزیر اعظم عمران خان کی فیملی اور پارٹی رہنماؤں پر ملاقات کے حوالے سے پابندیاں بھی عائد ہیں پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ ملاقاتیں فی الحال معطل رہیں گی اور قانونی کارروائی کے دوران صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانونی کارروائی تب تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وکیل مؤکل سے ملاقات کر کے کیس کی تفصیلات جان نہیں لیتا اور مؤکل کے حق میں دفاع تیار نہیں کرتا یہ کیس آئندہ سماعت میں دوبارہ زیر غور آئے گا اور حتمی فیصلہ ملاقات کے بعد ہی کیا جائے گا
یہ مقدمہ ملک میں سوشل میڈیا اور قانونی حدود کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ واضح کرتا ہے کہ قید میں بھی کسی قیدی کے حقوق اور قانونی نمائندگی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے اور عدلیہ اس معاملے میں حساس اور محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے

