نئی کورونا قسم بی اے تین دو دنیا بھر میں پھیلنے لگی ماہرین کی تشویش میں اضافہ
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی قسم بی اے تین دو سامنے آنے کے بعد صحت کے ماہرین میں تشویش بڑھ گئی ہے یہ نئی قسم مدافعتی نظام سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے اسے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے تازہ تحقیق کے مطابق یہ وائرس امریکا سمیت تئیس ممالک میں رپورٹ ہو چکا ہے جس سے عالمی سطح پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے
ماہرین کے مطابق اس نئی قسم میں تقریباً ستر سے پچھتر تبدیلیاں پائی گئی ہیں جو وائرس کے اسپائیک پروٹین میں موجود ہیں یہ وہی حصہ ہے جس کے ذریعے وائرس انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اسی وجہ سے اس نئی قسم کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ویکسین کے اثر کو کم کر سکتی ہے اور پہلے سے موجود مدافعتی قوت کو بھی متاثر کر سکتی ہے
تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نئی قسم سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں سامنے آئی تھی جس کے بعد یہ تیزی سے مختلف ممالک میں پھیلنا شروع ہوئی یورپ کے کچھ ممالک جیسے ڈنمارک جرمنی اور نیدرلینڈز میں اس وائرس کی شرح تقریباً تیس فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے
امریکا میں بھی اس وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں مسافروں کے ذریعے اس کی نشاندہی کی گئی اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں گندے پانی کے نمونوں سے بھی اس وائرس کی موجودگی ظاہر ہوئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وائرس خاموشی سے پھیل رہا ہے
نئی ذیلی اقسام کی دریافت وائرس کے تیزی سے بدلنے کا ثبوت
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چونکہ کئی ممالک میں جینیاتی نگرانی کا نظام کمزور ہے اس لیے اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے مسلسل نگرانی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے
اس نئی قسم کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کی مزید ذیلی اقسام بھی سامنے آ رہی ہیں جو وائرس کے مسلسل بدلنے کا ثبوت ہیں اس صورتحال میں عوام کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے
کورونا وائرس نئی قسم صحت عالمی صحت ویکسین وائرس پھیلاؤ مدافعتی نظام احتیاطی تدابیر عالمی نگرانی وائرس خطرہ
ماہرین نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال جاری رکھیں ہاتھوں کی صفائی کا خیال رکھیں اور رش والی جگہوں سے گریز کریں خاص طور پر وہ افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہے انہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے
آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نئی قسم خطرناک ہو سکتی ہے لیکن بروقت احتیاط اور موثر نگرانی کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے اس لیے عوام کو گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی تاکہ خود کو اور اپنے خاندان کو محفوظ رکھا جا سکے

