صدر اور وزیر اعظم کا یوم آزادی صحافت پر آزادی صحافت کے عزم کا اعادہ
یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صحافت کی آزادی کے لیے پاکستان کے عزم کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ذمہ دار صحافت سچائی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر قائم ہوتی ہے اور یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں آزادیٔ صحافت نہ صرف آئینی حق ہے بلکہ ایک مضبوط جمہوری نظام کی بنیاد بھی ہے انہوں نے ملک اور دنیا بھر کے صحافیوں مدیران اور میڈیا ورکرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا موضوع امن کا مستقبل تشکیل دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امن کا قیام سچ کے بغیر ممکن نہیں اور سچ تک رسائی صرف وہی لوگ ممکن بناتے ہیں جو جرات اور دیانت داری کے ساتھ کام کرتے ہیں
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صحافت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جہاں غلط معلومات عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور گمراہ کن بیانیے جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں یہاں پر آزادی صحافت پاکستان اور ذمہ دار صحافت جیسے اہم الفاظ ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ کس طرح ایک مضبوط میڈیا معاشرے کو درست سمت دے سکتا ہے
صدر نے مصنوعی ذہانت کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرف مواقع فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف خطرات بھی پیدا کرتی ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے جو معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کرتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا آزادی اور میڈیا اخلاقیات کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے
صحافیوں کو درپیش خطرات اور تحفظ کی ضرورت
انہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل انیس اور انیس اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوانین عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دیتے ہیں اور صحافت کو آزادی فراہم کرتے ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی طاقت کی علامت ہوتا ہے
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ حکومت صحافیوں کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے انہوں نے کہا کہ صحافت اور سچائی لازم و ملزوم ہیں اور میڈیا کو چاہیے کہ وہ درست معلومات فراہم کرے تاکہ عوام کا اعتماد قائم رہے یہاں پر سچائی اور میڈیا کی ذمہ داری جیسے الفاظ انتہائی اہمیت رکھتے ہیں
صدر مملکت نے ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے سچ کی تلاش میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور ایسے قوانین بنائے جائیں جو ان کے حقوق کا تحفظ کریں
انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ جھوٹی خبروں کو مسترد کریں اور مستند صحافت کی حمایت کریں کیونکہ ایک باشعور معاشرہ ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اس طرح آزادی صحافت عالمی دن اور پاکستان میڈیا جیسے موضوعات ہماری قومی ذمہ داری کو اجاگر کرتے ہیں اور ہمیں سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کا پیغام دیتے ہیں

