خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں 5 دہشت گرد ہلاک
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں الگ الگ آپریشن کرتے ہوئے 5 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق یہ کارروائیاں 7 اور 8 مئی کو ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں انجام دی گئیں۔
ٹانک میں کارروائی 4 دہشت گرد ہلاک
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ٹانک ضلع میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک بھرپور آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے 4 خطرناک دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق مارے جانے والے دہشت گرد علاقے میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے اور ان کے خلاف متعدد مقدمات درج تھے۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ہلاک شدہ دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا، جسے ضبط کر لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد نہ صرف مقامی آبادی کو خوف زدہ کرنے میں ملوث تھے بلکہ ریاست مخالف کارروائیوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کا خاتمہ علاقے میں امن و امان کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم ہے
ڈیرہ اسماعیل خان میں آپریشن ایک دہشت گرد ہلاک
دوسری کارروائی ڈیرہ اسماعیل خان ضلع میں انجام پائی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر ایک مطلوب دہشت گرد کو نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مارا جانے والا دہشت گرد کئی دہشت گردانہ واقعات میں براہ راست ملوث تھا اور طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا
اس کارروائی کے دوران بھی سیکیورٹی فورسز نے ہلاک شدہ دہشت گرد سے اسلحہ اور دیگر مواد برآمد کیا۔ اس کا خاتمہ علاقے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے
کلیئرنس آپریشن جاری ہے
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ان کارروائیوں کو انجام دے رہے ہیں تاکہ علاقے سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کیا جا سکے
سیکیورٹی فورسز یہ آپریشن “عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت انجام دے رہی ہیں، جسے قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کیا ہے۔ یہ وژن ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف جامع اور منظم کارروائی کے لیے ترتیب دیا گیا ہے
عزمِ استحکام دہشت گردی کے خلاف قومی عزم
عزمِ استحکام” پاکستان کی ریاست کا دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس وژن کے تحت فوج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر ملک دشمن عناصر کے خلاف مربوط کارروائیاں کر رہے ہیں
قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے چلائے جانے والے ان آپریشنز کا مقصد نہ صرف موجودہ دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے بلکہ مستقبل میں دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو بھی ناکام بنانا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک علاقے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال
خیبرپختونخوا، بالخصوص ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع، دہشت گردی کے حوالے سے حساس علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ علاقے افغانستان کی سرحد سے قریب ہونے کی وجہ سے دہشت گرد تنظیموں کی نقل و حرکت کا مرکز رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں سیکیورٹی فورسز نے یہاں مسلسل آپریشن کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا ہے۔
تازہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کو کسی بھی جگہ چھپنے کا موقع نہیں دیں گے اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بروقت کارروائی کرتے رہیں گے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی یہ کامیاب کارروائیاں ملک میں امن کے قیام کی جاری کوششوں کی ایک اہم کڑی ہیں

