کراچی میں ٹریفک حادثات پر مبنی خبر کے لیے موزوں سرخیاں درج ذیل ہیں
کراچی کے علاقے لانڈھی میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے نے شہر کو ایک بار پھر غم میں مبتلا کر دیا جہاں ایک نوجوان خاتون موٹر سائیکل سوار بھاری گاڑی کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گئی یہ واقعہ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور بھاری گاڑیوں کی بے قابو آمد و رفت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے
تفصیلات کے مطابق لانڈھی کے مرکزی مہران شاہراہ پر ایک تیز رفتار ٹریلر نے موٹر سائیکل سوار خاتون کو کچل دیا حادثے کے وقت خاتون اپنی موٹر سائیکل پر سفر کر رہی تھیں ٹکر اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں حادثے کے فوراً بعد ٹریلر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جبکہ گاڑی کو پولیس نے تحویل میں لے لیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا پولیس نے لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا جبکہ فرار ہونے والے ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری گاڑیوں کے ڈرائیور اکثر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں جس کا خمیازہ بے گناہ شہریوں کو اپنی جان دے کر بھگتنا پڑتا ہے
بھاری ٹریفک شہریوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے کراچی میں حادثات میں اضافہ
یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ حالیہ مہینوں میں کراچی میں ایسے حادثات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے خاص طور پر ڈمپر ٹریلر اور پانی کے ٹینکر شہری سڑکوں پر موت کا سبب بن رہے ہیں مختلف علاقوں میں آئے روز موٹر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے افراد ان گاڑیوں کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں
اسی روز شہر کے ایک اور علاقے میں بھی ایک بزرگ شہری ٹریلر کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئے یہ حادثہ رات کے وقت پیش آیا جس نے شہریوں میں مزید خوف پیدا کر دیا فلاحی اداروں کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک متعدد افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں
شہر میں دن کے اوقات میں بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کی گئی ہے جس میں توسیع بھی کی گئی ہے تاہم اس کے باوجود حادثات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا شہریوں کا کہنا ہے کہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں
عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھاری گاڑیوں کے لیے مخصوص اوقات اور راستوں کا تعین کیا جائے ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے کراچی کے شہری اب مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے اور فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں

