خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں پر شدید ردعمل
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو احتجاج کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے نتیجے میں بے گناہ لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے اور اسے اجتماعی نقصان کہا جا سکتا ہے
صوبائی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس مسلسل ڈرون حملوں اور ان کے بعد ہونے والے نقصانات کے خلاف بلایا گیا ہے ان کے مطابق یہ صورتحال خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور اس سے عوام میں غصہ اور بے چینی بڑھ رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے باعث علاقے میں انتقامی جذبات پیدا ہو رہے ہیں اور یہی صورتحال امن و امان کے لیے خطرہ بن رہی ہے انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت اس پر سخت موقف اپنائے گی
اسی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے گیس لوڈشیڈنگ پر بھی شدید ردعمل دیا اور کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل کے مطابق صوبے کے حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گیس کی پیداوار زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو اس کا پورا فائدہ نہیں مل رہا
خیبر پختونخوا حکومت کا حقوق کے تحفظ کا عزم
ڈرون حملے احتجاج گیس لوڈشیڈنگ آئینی حقوق امن و امان یہ اہم مسائل ہیں جن پر حکومت نے سنجیدہ غور کیا ہے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کی گئی ہے
وزیر اعلیٰ کے مطابق صوبے میں یومیہ گیس کی پیداوار چار سو ملین مکعب فٹ ہے جبکہ استعمال بہت کم ہے اس کے باوجود صوبے میں لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جو کہ ناانصافی ہے
انہوں نے مزید کہا کہ اگر گیس کی تقسیم کا مسئلہ حل نہ ہوا تو چھیالیس گھنٹوں کے اندر صوبائی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے گا
کابینہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے جن میں اقلیتوں کے لیے ڈیجیٹل تعلیم پروگرام کے لیے خصوصی فنڈ کی منظوری شامل ہے اس کے علاوہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی اضافی فنڈز منظور کیے گئے
حکومت نے خوراک کے تحفظ کے لیے گندم کی خریداری کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کسانوں سے بڑی مقدار میں گندم خریدی جائے گی تاکہ صوبے میں غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پیدائش شادی اور دیگر شہری ریکارڈ کو ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے گا تاکہ عوام کو سہولت مل سکے
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے آخر میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے حقوق کا تحفظ ہر صورت کیا جائے گا اور عوام کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا

