Sat. Jan 31st, 2026

امریکہ واشنگٹن یونیورسٹی کا نیا ڈارک میٹر ڈیٹیکٹر کائنات کے راز کو سمجھنے کی کوشش

واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نیا ڈارک میٹر ڈیٹیکٹر تیار کر کے کائنات کے سب سے بڑے راز کی تلاش میں قدم بڑھایا ہے۔ جانیں کہ یہ ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے
واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نیا ڈارک میٹر ڈیٹیکٹر تیار کر کے کائنات کے سب سے بڑے راز کی تلاش میں قدم بڑھایا ہے۔ جانیں کہ یہ ڈیوائس کیسے کام کرتی ہے

شمال مغربی سائنسدانوں نے دریافت کی ڈارک میٹر کا پتہ لگانے والی نئی ڈیوائس

کائنات میں آج بھی کئی ایسے راز موجود ہیں جنہیں سائنسدان مکمل طور پر حل نہیں کر پائے ان میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر کائنات کس چیز سے بنی ہے؟ حال ہی میں واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے

ہر چیز اپنی ماس یا مادہ کی وجہ سے کشش ثقل پیدا کرتی ہے جتنا زیادہ ماس ہوگا اتنی ہی زیادہ کشش ثقل پیدا ہوگی لیکن سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ کائنات میں موجود کشش ثقل کی مقدار نظر آنے والی چیزوں جیسے ستارے سیارے اور کائناتی غبار کے حساب سے کہیں زیادہ ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات میں کچھ ایسا مادہ موجود ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے لیکن جو کشش ثقل پیدا کر رہا ہے۔ سائنس میں اس غیر مرئی مادے کو ڈارک میٹر کہا جاتا ہے

ڈارک میٹر کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر چیز پر اپنی کشش ثقل لگاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے زمین ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہے۔لیکن اس کا اصل وجود اور ساخت اب تک ایک راز ہے سائنسدان مختلف نظریات پیش کر چکے ہیں جن میں  ایکسیونز اور چھپے ہوئے ذرات شامل ہیں لیکن اب تک کوئی حتمی طور پر اس کی شناخت نہیں کر سکا

واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی نئی ایجاد

اسی مقصد کے لیے واشنگٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ ڈارک میٹر ڈیٹیکٹر تیار کیا ہے یہ آلہ بہت چھوٹے ذرات کے اثرات کو بھی پہچان سکتا ہے۔ اس ڈیوائس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر لمحے کی تصویر لے سکتا ہے جب کوئی ڈارک میٹر کا ذرات اس کے چھوٹے ذرات سے ٹکراتا ہے

ڈیٹیکٹر کو فرانس کے الپس کے نیچے ایک میل کی گہرائی میں رکھا گیا ہے تاکہ کوئی غیر ضروری ریڈی ایشن یا شور سگنل میں مداخلت نہ کرے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسے انتہائی نایاب سگنلز تلاش کر رہے ہیں جو سال میں شاید ایک بار ہی ملیں

پہلے مرحلے میں اس ڈیٹیکٹر کو 84 دن تک چلایا گیا لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہیں ملا تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ناکامی بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے یہ بتاتی ہے کہ ڈارک میٹر کس قسم کا ذرات ممکنہ طور پر نہیں ہو سکتا اور اس طرح مختلف نظریات کی جانچ میں مدد ملتی ہے

مستقبل میں، ٹیم ایک بڑا اور زیادہ حساس ڈیٹیکٹر جلد از جلد 2026 میں لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ ڈارک میٹر کی شناخت کے امکانات بڑھ سکیں۔

یہ تحقیق نہ صرف کائنات کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک کو حل کرنے کی کوشش ہے بلکہ سائنسدانوں کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ اگر ڈارک میٹر کی صحیح شناخت ہو جائے، تو یہ کائنات کے مطالعے میں انقلاب برپا کر سکتی ہے اور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ ہمارے اردگرد کا عالم کس طرح سے کام کر رہا ہے

متعلقہ پوسٹس