حکومت کا مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار
پاکستان میں حکومت نے ایک بار پھر مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے فی لیٹر 40 روپے مہنگا کر دیا ہے جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ فیصلہ ایک ہفتے کے لیے کیا گیا ہے جو 20 مارچ تک نافذ العمل رہے گا حکومت کے اس اقدام کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 358 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث یہ عام صارفین کے لیے سب سے مہنگا ایندھن بن گیا ہے
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 23 ارب روپے کی قیمت میں فرق کی سبسڈی دینے کی منظوری دی ہے حکام کے مطابق اگر حکومت یہ سبسڈی نہ دیتی تو پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 49 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 75 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا تاہم حکومت نے عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا
مٹی کے تیل کی قیمت میں حالیہ اضافہ تقریباً بارہ اعشاریہ چھ فیصد بنتا ہے جبکہ اس ماہ کے آغاز سے اب تک اس کی مجموعی قیمت میں تقریباً نوے فیصد اضافہ ہو چکا ہے مارچ کے شروع میں مٹی کے تیل کی قیمت تقریباً 188 روپے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر 358 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے اس طرح صرف چند ہفتوں میں اس ایندھن کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
حکومت کی نئی پالیسی مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ
توانائی ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کی منظوری دی ہے اور حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو قیمت کے فرق کی ادائیگی کرے گی اس مقصد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو ادائیگی کا نظام تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کمپنیوں کے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کے بعد انہیں ادائیگیاں کی جا سکیں
حکومت نے اس مقصد کے لیے وزیر اعظم کے نام سے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے جسے وزیر اعظم آسٹریٹی فنڈ کہا جا رہا ہے کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے بعد اس فنڈ میں 27 ارب روپے سے زائد کی رقم منتقل کی گئی ہے جس میں سے 23 ارب روپے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے اوگرا کو فراہم کیے جائیں گے
مٹی کا تیل عام طور پر ان علاقوں میں استعمال ہوتا ہے جہاں گیس کے سلنڈر یا دیگر ایندھن کی سہولت آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی خاص طور پر دور دراز اور دیہی علاقوں میں لوگ کھانا پکانے اور روشنی کے لیے اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں تاہم ماضی میں بعض عناصر اس ایندھن کو پیٹرول کے ساتھ ملا کر ناجائز منافع بھی کماتے رہے ہیں کیونکہ پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا فرق موجود تھا
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کیوں نہیں بڑھائیں
حکومت اس وقت پیٹرول اور ڈیزل پر مختلف ٹیکس اور لیویز بھی وصول کر رہی ہے ڈیزل پر تقریباً پچپن روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول پر ایک سو پانچ روپے سے زائد پٹرولیم لیوی عائد ہے اس کے علاوہ موسمیاتی معاونت کے لیے بھی فی لیٹر دو اعشاریہ پانچ روپے وصول کیے جاتے ہیں مزید برآں ملک بھر میں یکساں قیمت برقرار رکھنے کے لیے ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن بھی شامل کیا جاتا ہے
پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی طلب نسبتاً بہت کم ہے اور اس کی ماہانہ فروخت تقریباً دس ہزار ٹن کے قریب بتائی جاتی ہے تاہم قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد عام صارفین خصوصاً دیہی علاقوں کے افراد کے لیے اس ایندھن کا استعمال مزید مہنگا ہو گیا ہے

