سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
مقامی اور عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کراچی کی صرافہ مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا بتایا جا رہا ہے
مقامی صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا تین ہزار روپے مہنگا ہو کر چار لاکھ ستانوے ہزار چھ سو باسٹھ روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ دس گرام سونے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ دو ہزار پانچ سو بہتر روپے بڑھ کر چار لاکھ چھبیس ہزار چھ سو چونسٹھ روپے تک پہنچ گئی ہے
چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی ایک سو تیس روپے اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چودہ روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت بھی ایک سو گیارہ روپے بڑھ کر چھ ہزار آٹھ سو ستر روپے ہو گئی ہے
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر سونے کی قیمت میں اضافہ برقرار رہا ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب اور مختلف معاشی خدشات کے باعث سونے کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں
مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار
اسی طرح دیگر دھاتوں کی عالمی مارکیٹ میں بھی مختلف رجحانات سامنے آئے ہیں جہاں چاندی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ صورتحال عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاری کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے
گزشتہ روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھنے میں آئی تھی جس کی وجہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر کرنسی کی قدر میں تبدیلی بتائی گئی تھی۔ تاہم اس کمی کے بعد اگلے ہی روز دوبارہ قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاؤ ظاہر ہوتا ہے
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ تبدیلیاں عالمی طلب اور رسد کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی حالات سے بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ مقامی سرمایہ کار اور خریدار اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ سے مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مقامی اور عالمی دونوں مارکیٹوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے اور آنے والے دنوں میں بھی قیمتوں میں مزید رد و بدل کا امکان موجود ہے

