موبائل ایپ کے ذریعے فیول کوٹہ نظام تیار کم آمدنی والے افراد کو ریلیف دینے کا فیصلہ
حکومت پاکستان نے عالمی تیل بحران کے پیش نظر موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے افراد کے لیے ایک نیا موبائل ایپ پر مبنی فیول کوٹہ نظام تیار کر لیا ہے جس کا مقصد کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنا اور ایندھن کے استعمال کو کنٹرول کرنا ہے یہ نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا اور اس کے ذریعے صارفین کو مخصوص مقدار میں سبسڈی والا پٹرول فراہم کیا جائے گا
حکام کے مطابق اس منصوبے کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اور وزارت خزانہ وزارت پیٹرولیم اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے اس نظام کے تحت ہر صارف کو اس کی گاڑی کے رجسٹریشن نمبر اور قومی شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا جس کے بعد وہ موبائل ایپ کے ذریعے اپنا فیول کوٹہ حاصل کر سکے گا
اس نئے نظام میں صارفین کو ایک ڈیجیٹل واؤچر دیا جائے گا جسے پٹرول پمپ پر اسکین یا درج کیا جائے گا اس کے بعد سسٹم خودکار طریقے سے صارف کے کوٹے کی تصدیق کرے گا اگر کسی صارف کا کوٹہ پندرہ لیٹر ہے اور وہ بیس لیٹر کی درخواست دیتا ہے تو اسے صرف پندرہ لیٹر ہی فراہم کیا جائے گا اس طریقہ کار سے نہ صرف شفافیت آئے گی بلکہ غیر ضروری استعمال میں بھی کمی ہوگی
حکومت کی جانب سے پٹرول پمپس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس نظام کو چلانے کے لیے کم از کم دو موبائل فون فراہم کریں گے اور اس کے لیے مخصوص فنڈ بھی جمع کروانا ہوگا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اس نظام کے استعمال کے لیے تربیتی ویڈیوز اور مکمل رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری پیش نہ آئے
چھوٹی گاڑیوں کو شامل کرنے پر غور
مزید برآں پٹرول پمپس پر مخصوص نوزلز مختص کیے جائیں گے جہاں صرف سبسڈی والا پٹرول فراہم کیا جائے گا تاکہ مستحق افراد کو آسانی سے سہولت حاصل ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر پمپ کے لیے ایک ذمہ دار نمائندہ مقرر کریں جو چوبیس گھنٹے نگرانی اور شکایات کے ازالے کے لیے دستیاب ہو
حکومت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا اس سہولت کو چھوٹی گاڑیوں تک بھی بڑھایا جائے یا اسے صرف موٹر سائیکل اور رکشہ تک محدود رکھا جائے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ کابینہ کمیٹی کرے گی
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے حکومت کو صرف دو ہفتوں تک قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے اربوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے اسی لیے یہ نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو اور عام شہری کو ریلیف دیا جا سکے
یہ اقدام نہ صرف ایندھن کے ضیاع کو کم کرے گا بلکہ معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور حکومت کو امید ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے شفاف اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے گا

