تیل کی قیمتوں میں اضافہ عام شہری اور صنعت پر اثرات
کراچی: عالمی مارکیٹ میں جاری بحران کے باوجود پاکستان براہِ راست تنازع میں شامل نہیں ہے، لیکن تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نے ملکی معیشت اور عام شہریوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا، حالانکہ پرانے ذخائر ابھی تک صارفین تک پہنچنے سے قبل ہیں
تاجر اور صنعتکار اس اچانک اضافے پر مایوس ہیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے کارکن سید شکیل کا کہنا ہے کہ “سب سے آسان طریقہ عام شہریوں سے پیسہ نکالنا ہے، جبکہ معیشت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔” ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں صنعتی شعبہ شدید مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے اور مہنگائی کی موجودہ لہر مزید مسائل پیدا کرے گی
صنعتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات غیر متوقع مہنگائی، سود کی شرح میں اضافہ، مالی خسارے میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں وسعت، زرِ مبادلہ کی عدم توازن اور وفاقی قرضوں میں اضافے کی صورت میں نمایاں ہوں گے۔ ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمد کنندہ عامر عزیز نے کہا کہ ہم پہلے ہی کم منافع پر کام کر رہے ہیں، اگر مہنگائی بڑھتی رہی تو ہمیں عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گ
پاکستان میں تیل کی بڑھتی قیمتیں اور مالیاتی چیلنجز 2026
مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ حکومت کے اخراجات کو بڑھا سکتا ہے جس سے مالیاتی خسارے کے اہداف پر منفی اثر پڑے گا۔ اس سال حکومت نے بینکوں سے پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ قرضہ لیا ہے۔ جنوری 2026 تک وفاقی حکومت کا اندرونی قرضہ 55.978 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے
مزید قرضہ لینا ترقیاتی اخراجات کے لیے وسائل کم کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے معیشت کی شرح نمو سست روی کا شکار ہوتی ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو حکومت کو بیرونی مالی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کو درپیش مسائل برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں
اب تک اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں لیکن خطے میں اقتصادی بحران کے باعث یہ ذخائر بھی کم ہو سکتے ہیں تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنے تیل کی فروخت اور امریکہ میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے فکر مند ہیں
عوام کے لیے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی کے اثرات ہیں، جو روزمرہ کی ضروریات کو مہنگا کر سکتے ہیں، جبکہ صنعتکار عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے کم منافع کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت اور عام شہریوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے

