پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار
حکومت نے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا گیا ہے اس فیصلے کے مطابق سولہ جنوری سے پیٹرول کی قیمت دو سو ترپن روپے سترہ پیسے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت دو سو ستاون روپے آٹھ پیسے فی لٹر رہے گی تاہم پیٹرول پر لیوی میں چار روپے پینسٹھ پیسے اور ڈیزل پر اسی روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اس کے بعد پیٹرول اور کاربن لیوی ملا کر پیٹرول پر کل سترہ روپے اور ڈیزل پر کل انسٹھ روپے کی وصولی ہوگی
پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، چھوٹے موٹر گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہِ راست عام آدمی کی روز مرہ زندگی پر اثر ڈالتی ہے خاص طور پر درمیانے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بجٹ پر اس کا بوجھ محسوس کیا جا سکتا ہے دوسری طرف ہائی سپیڈ ڈیزل زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ، ٹرینوں اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ سبزیوں، اناج اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے سے شہریوں کی روز مرہ ضروریات پر بوجھ کم رہے گا جبکہ لیوی میں اضافہ ملکی آمدنی میں اضافہ کا ذریعہ ہے اس فیصلے کا مقصد ملکی خزانے کو مستحکم کرنا
ڈیزل اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی تشویش
اور عوام پر قیمتوں کا فوری اثر کم کرنا ہے ماہرین کے مطابق یہ قدم درمیانے اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے کچھ حد تک راحت بخش ہے لیکن ٹرانسپورٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کو ابھی بھی اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لوگ اس بات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ ڈیزل پر بڑھتی ہوئی لیوی کے اثرات کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں خصوصاً سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ شہری علاقوں میں رکشوں اور چھوٹے ٹرانسپورٹ کے استعمال کرنے والے افراد بھی پیٹرول پر لیوی کے اضافے سے متاثر ہوں گے
عوام میں یہ توقع ہے کہ حکومت اس اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے مستقبل میں سبسڈی یا دیگر اقدامات بھی کر سکتی ہے تاکہ عام آدمی کی روز مرہ زندگی پر زیادہ اثر نہ پڑے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے اس توازن کو برقرار رکھنا مشکل ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ملکی معاشی صورتحال پر بھی دباؤ ہے اس لیے حکومت نے اس مرتبہ قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے لیوی میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
یہ فیصلہ روزانہ کی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالنے والا ہے لیکن حکومتی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے اور خزانے میں اضافہ کرنے کے لیے ضروری ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام کے لیے یہ اطلاع بھی اہم ہے کہ وہ اپنی روزمرہ ضروریات کی منصوبہ بندی اس حساب سے کریں تاکہ اچانک قیمتوں کے اثرات سے بچا جا سکے

