Sat. Jan 31st, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان شیڈول کی غیر یقینی صورتحال

بنگلہ دیش سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ آئی سی سی کو غیر جانبدار فیصلہ کرنا چاہیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان شیڈول کی غیر یقینی صورتحال اور کھلاڑیوں کی حفاظت کے اہم مسائل مصطفیٰ الرحمان سے متعلق واقعات کی وجہ سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سکیورٹی خدشات کا اظہار کر رہا ہے اور آئی سی سی سے بات کر رہا ہے
بنگلہ دیش سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ آئی سی سی کو غیر جانبدار فیصلہ کرنا چاہیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان شیڈول کی غیر یقینی صورتحال اور کھلاڑیوں کی حفاظت کے اہم مسائل مصطفیٰ الرحمان سے متعلق واقعات کی وجہ سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سکیورٹی خدشات کا اظہار کر رہا ہے اور آئی سی سی سے بات کر رہا ہے

مضمون کا متن دوستانہ اور صاف

جنوبی ایشیا میں ایک اور مشترکہ کرکٹ ٹورنامنٹ کے شیڈول کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور ایک بار پھر کرکٹ سیاست کا پہلو سامنے آیا ہے۔ اس بار بھی معاملہ بھارت سے متعلق ہے جو اکثر اپنا اثر و رسوخ دکھاتا رہا ہے، لیکن اب اسے اپنی ہی دوا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ شروع ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے جو بھارت اور سری لنکا میں ہونے والا ہے۔ اس

بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت جانے سے ہچکچا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے بات چیت کر رہا ہے کہ اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے جائیں

یہ خدشات ڈھاکہ اور نئی دہلی کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور فاسٹ بالر مصطفیٰ الرحمان سے متعلق حالیہ واقعات کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ مصطفیٰ کو آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے سائن کیا تھا، لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نے حالیہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے اسے آزاد کرنے کے لیے کہا۔ اس پر ڈھاکہ میں شدید ردعمل ہوا

آئی سی سی کے غیر جانبدار فیصلوں کی ضرورت

بنگلہ دیش نے آئی پی ایل کی نشریات پر پابندی لگا دی اور آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ورلڈ کپ کے میچز بھارت کی بجائے کسی اور جگہ منتقل کیے جائیں۔ بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی حفاظت یقینی نہیں ہو سکتی تو پوری ٹیم کی سلامتی کیسے ممکن ہوگی

یہ ورلڈ کپ ایک بار پھر علاقائی سیاسی کشیدگی کے اثرات کے تحت آ گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے کیے گئے انتظام کے مطابق دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ممالک میں میچز کھیلنے کی بجائے غیر جانبدار مقامات پر کھیلیں گی۔ پاکستان اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جیسے بھارت نے گزشتہ سال یو اے ای میں چیمپئنز ٹرافی میں کیا تھا

اب جب بنگلہ دیش نے بھی ایسے خدشات ظاہر کیے ہیں، تو بھارت کو انہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ضروری ہے کہ آئی سی سی غیر جانبدار فیصلے کرے اور کسی بھی ٹیم پر زبردستی نہ کرے۔ کرکٹ کو سیاست سے بالاتر رکھنا ہی کھیل اور کھلاڑیوں کے حق میں بہتر ہے

متعلقہ پوسٹس