آبنائے ہرمز بحران اور تیل بردار جہازوں کی نئی صورتحال
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس اہم سمندری راستے میں بڑھتے ہوئے خطرات نے تیل کی عالمی ترسیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے حالیہ صورتحال میں تیل بردار جہازوں نے اس حساس گزرگاہ سے دور رہنا شروع کر دیا ہے جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے
اطلاعات کے مطابق امریکہ کی جانب سے ممکنہ ناکہ بندی کے اعلان کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں اس اقدام نے عالمی منڈی میں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے کیونکہ یہ راستہ دنیا کی سب سے اہم تیل ترسیلی شریان سمجھا جاتا ہے
دوسری جانب ایران کی اہم عسکری تنظیم پاسداران انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی جنگی جہاز یا مشکوک سرگرمی کو خطرہ سمجھا جائے گا اور اس کا فوری جواب دیا جائے گا اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سفارتی سطح پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
شپنگ ڈیٹا کے مطابق متعدد بڑے تیل بردار جہازوں نے اس راستے کو استعمال کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ کچھ جہازوں نے متبادل راستے اختیار کیے ہیں پاکستان کے جھنڈے والے چند تیل بردار جہاز بھی خلیجی پانیوں میں داخل ہوئے ہیں جو علاقائی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا بھر کو فراہم کیا جاتا ہے اور اگر یہاں کسی قسم کی بندش یا تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہ راست اثر عام صارفین اور صنعتی شعبے پر پڑے گا
اس صورتحال نے توانائی کی عالمی سپلائی چین کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی بڑھتی جا رہی ہے تاجر اور شپنگ کمپنیاں مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اپنے فیصلے وقت پر کر سکیں
ابھی تک کچھ تیل بردار جہاز اس خطرناک علاقے سے کامیابی سے گزر چکے ہیں لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے

