امریکہ کی ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کیا ہے
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کو ماہرین ایک بڑا اور طویل المدتی فوجی اقدام قرار دے رہے ہیں جو خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے اور پہلے سے نازک صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے
امریکی صدر ٹرنپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے لیے ناکہ بندی کا عمل شروع کرے گی خاص طور پر ان جہازوں کے لیے جو ایران کی بندرگاہوں کی طرف یا وہاں سے روانہ ہوں گے
امریکی حکام کے مطابق یہ پابندی آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے راستوں پر ایران سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے گی اور اس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ اس اہم آبی راستے پر اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے
آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اسی وجہ سے اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں شدید اثر ڈال سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے
ماہرین کے مطابق اگر یہ حکمت عملی مکمل طور پر نافذ کی گئی تو یہ ایک کھلی جنگی صورتحال کے مترادف ہوگی کیونکہ اس کے لیے بڑی تعداد میں جنگی بحری جہازوں اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوگی
سابق امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اقدام آسان نہیں ہوگا اور اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ ایران جوابی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے
امریکی حکام کا مؤقف اور ناکہ بندی کی تفصیلات
ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے
خطے میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود کی گئی تو عالمی معیشت پر اس کے براہ راست اثرات پڑیں گے خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے
امریکی سینیٹ کے بعض ارکان نے بھی اس پالیسی پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ اس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں جس کا اثر عام شہریوں پر پڑے گا
ٹرنپ نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے اندر محدود فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے جس سے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے
ایران کی پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کسی بھی جارحانہ اقدام کو جنگی اقدام سمجھا جائے گا اور اس کا سخت جواب دیا جائے گا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کا حل صرف سفارتکاری اور بین الاقوامی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے کیونکہ فوجی راستہ خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے
عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ پوری دنیا کی توانائی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے

