Fri. Feb 6th, 2026

امریکہ کی شام میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے فضائی حملے

امریکہ نے شام میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے ہیں یہ کارروائیاں پالمیرا میں امریکی اہلکاروں پر ہوئے حملے کے جواب میں کی گئیں پالمیرا میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا آپریشن ہوکائی اسٹریک کے تحت امریکی فضائی حملے شام میں شدت پسندوں کے خلاف موثر حکمت عملی کے طور پر کیے گئے شام میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے شدت پسندوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا اور مقامی سکیورٹی فورسز کی حمایت کی گئی امریکی اور بین الاقوامی افواج کی شام میں کارروائیوں کا مقصد شدت پسندوں کو ختم کرنا اور علاقے میں امن قائم رکھنا ہے
امریکہ نے شام میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے ہیں یہ کارروائیاں پالمیرا میں امریکی اہلکاروں پر ہوئے حملے کے جواب میں کی گئیں پالمیرا میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا آپریشن ہوکائی اسٹریک کے تحت امریکی فضائی حملے شام میں شدت پسندوں کے خلاف موثر حکمت عملی کے طور پر کیے گئے شام میں بین الاقوامی تعاون کے ذریعے شدت پسندوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا اور مقامی سکیورٹی فورسز کی حمایت کی گئی امریکی اور بین الاقوامی افواج کی شام میں کارروائیوں کا مقصد شدت پسندوں کو ختم کرنا اور علاقے میں امن قائم رکھنا ہے

امریکہ کی شام میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی

امریکی افواج نے شام میں شدت پسند تنظیم کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی ہیں امریکی فوج کے مطابق یہ حملے اس دہشت گرد تنظیم کی جانب سے گزشتہ ماہ امریکی اہلکاروں پر کیے جانے والے حملے کے ردعمل میں کیے گئے ہیں امریکی مرکزی کمانڈ کے مطابق متعدد فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں انہیں سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھا گیا تھا

یہ کارروائیاں آپریشن ہوکائی اسٹریک کے تحت کی گئی ہیں جس کا مقصد پالمیرا میں امریکی اور شامی افواج پر ہونے والے مہلک حملے کا جواب دینا تھا دسمبر کی تیرہ تاریخ کو پالمیرا میں ایک مسلح حملہ آور نے دو امریکی فوجیوں اور ایک امریکی مترجم کو ہلاک کر دیا تھا امریکی دفاعی حکام نے حملہ آور کو شدت پسند قرار دیا تھا لیکن بعد میں شامی وزارت داخلہ نے بتایا کہ حملہ آور شامی سکیورٹی فورسز کا رکن تھا جسے انتہاپسندی کے باعث نوکری سے فارغ کیا جانا تھا

امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ہم اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور اس طرح کی کارروائیوں میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے امریکہ اور اردن نے پچھلے مہینے بھی پالمیرا حملے کے جواب میں فضائی کارروائیاں کی تھیں جس میں ستر سے زیادہ شدت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا شامی انسانی حقوق کے مبصرین نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں کم از کم پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے جن میں ایک سیل کا رہنما بھی شامل تھا

شام میں شدت پسندوں کی موجودگی اور خطرات

جنوری کی تین تاریخ کو برطانیہ اور فرانس نے بھی مشترکہ کارروائیاں کیں اور بتایا کہ یہ فضائی حملے ایک زیر زمین مرکز کو ہدف بنا کر کیے گئے جہاں شدت پسند ہتھیار ذخیرہ کرتے تھے امریکی اہلکار جو پالمیرا میں ہلاک ہوئے تھے وہ اس بین الاقوامی کوشش میں شامل تھے جس کا مقصد شدت پسند تنظیم کو ختم کرنا تھا اس تنظیم نے 2014 میں شام اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا

شدت پسند بالآخر مقامی زمینی افواج اور بین الاقوامی فضائی حملوں کے نتیجے میں شکست کھا گئے لیکن شام کے وسیع صحرا میں ان کی موجودگی ابھی بھی برقرار ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل عرصے سے امریکی افواج کی شام میں موجودگی پر شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں انہوں نے اپنی پہلی مدت میں فوجی انخلا کے احکامات دیے لیکن آخرکار امریکی افواج شام میں موجود رہیں

پینٹاگون نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ شام میں اپنی افواج کی تعداد نصف کرے گا اور امریکی نمائندہ برائے شام نے جون میں کہا تھا کہ واشنگٹن آخرکار وہاں اپنے اڈوں کو صرف ایک تک محدود کرے گا یہ اقدامات شام میں امریکی اور بین الاقوامی سکیورٹی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں اور شدت پسند تنظیم کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں امریکی اور مقامی افواج کا مقصد یہ ہے کہ وہ علاقے میں امن قائم رکھیں اور دہشت گرد عناصر کو دوبارہ ابھرنے سے روکیں

متعلقہ پوسٹس