Wed. Mar 4th, 2026

امریکی قونصل خانوں کا غیر ہنگامی عملے کو پاکستان چھوڑنے کا حکم سکیورٹی خدشات

امریکی قونصل خانہ پاکستان کراچی امریکی قونصل سکیورٹی لاہور امریکی قونصلری خبروں امریکی سفارت خانہ پاکستان اپڈیٹ پاکستان میں امریکی شہری ہدایات ایران خطرات پاکستان کراچی مظاہرے امریکی قونصل اسلام آباد امریکی سفارت خانہ خبریں امریکی قونصل ہدایات ویزا پاکستان میں سفارتی سکیورٹی اپڈیٹس امریکی غیر ہنگامی عملہ پاکستان چھوڑنے کی ہدایت پاکستان میں امریکی قونصل خانوں کی سکیورٹی اپڈیٹس کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں کے مظاہرے امریکی شہریوں کے لیے پاکستان سکیورٹی مشورے ایران اور خطے کے خطرات امریکی قونصلری اقدامات
ایران اور خطے کے خطرات امریکی قونصلری اقدامات

امریکی قونصل خانوں کا غیر ہنگامی عملے کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

امریکی محکمہ خارجہ نے کراچی اور لاہور میں اپنے قونصل خانوں کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اس فیصلہ کے پیچھے سکیورٹی خدشات ہیں جس کے تحت امریکی حکام نے ان شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے امریکی مشن پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا

کہ کراچی اور لاہور کے امریکی قونصل خانوں کے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ان کی جان و مال محفوظ رہیں اس بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانہ کی سروسز کی صورتحال پر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

امریکی سفارت خانے کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں ایران سے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ موجود ہے اور تجارتی پروازوں میں بھی شدید خلل کی صورتحال ہے موجودہ بحران کے پیش نظر امریکی محکمہ خارجہ نے پہلے بھی خطے کے کئی ممالک میں اپنے عملے کو مشورے دیے ہیں جن میں اردن بحرین عراق کویت قطر متحدہ عرب امارات سعودی عرب عمان اور حال ہی میں قبرص شامل ہیں

امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ بحرین مصر ایران عراق اسرائیل مغربی کنارے غزہ پٹی اردن کویت لبنان عمان قطر سعودی عرب شام متحدہ عرب امارات اور یمن سے فوری طور پر روانہ ہو جائیں کیونکہ وہاں شدید حفاظتی خطرات ہیں

پاکستانی شہروں میں امریکی مشنز کے ارد گرد سکیورٹی سخت

پاکستان میں یہ ہدایت اس وقت جاری کی گئی جب یکم مارچ کوکراچی  میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران گیارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے مظاہرین امریکی اسرائیلی حملوں کے خلاف شدید احتجاج کر رہے تھے اور قونصل خانے کی بیرونی دیوار کو عبور کرنے کی کوشش کی اس موقع پر امریکی میرینز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تاہم یہ واضح نہیں کہ فائرنگ سے کسی کو نقصان پہنچا یا نہیں عام طور پر امریکی سفارتی مشنز میں سکیورٹی کے انتظامات مقامی فورسز اور نجی کنٹریکٹرز کے ذریعے کیے جاتے ہیں لیکن میرینز کی مداخلت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قونصل خانہ نے خطرے کو کس حد تک سنگین سمجھا

اسی روز اسلام آباد میں بھی مظاہرے پرتشدد ہو گئے تین افراد ہلاک ہو گئے پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ لاہور میں بھی مظاہرین نے قونصل خانے کے دروازے پر دھکا ماری کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں پیچھے دھکیل دیا پاکستانی حکام کی جانب سے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں خاص طور پر کراچی لاہور اور اسلام آباد میں امریکی مشنز کے ارد گرد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور بھاری پولیس نفری تعینات کی گئی ہے

پاکستان میں امریکی قونصل خانوں کے ویزا اور امریکی شہری خدمات کے تمام اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیے گئے ہیں تاہم اسلام آباد میں سفارت خانے نے بتایا ہے کہ وہ تمام ہنگامی اور معمول کی قونصلری خدمات فراہم کرتا رہے گا اور معمول کے آپریشنز دوبارہ تین مارچ سے شروع کیے جائیں گے امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور قونصل خانوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں

متعلقہ پوسٹس