ایران اسرائیل جنگ میں شدت امن مذاکرات کے دعوے مسترد
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جبکہ عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہ نظر رکھی جا رہی ہے۔ حالیہ بیانات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کسی بڑے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم تہران نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹی خبریں قرار دیا ہے
ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کی جانب سے اس قسم کے بیانات کا مقصد عالمی منڈیوں خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے ایک اہم رکن نے خبردار کیا کہ امریکہ پر اعتماد کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے
دوسری جانب جنگی صورتحال بھی مسلسل کشیدہ ہے جہاں اسرائیل میں ایک اور طویل رات میزائل حملوں کے سائے میں گزری۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے فائر کیے گئے متعدد میزائل مختلف علاقوں کی طرف داغے گئے جن میں کچھ وسطی علاقوں اور شمالی حصوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ خطرے کے پیش نظر تل ابیب اور دیگر شہروں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں
رپورٹس کے مطابق ایک میزائل کھلے علاقے میں گرا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کچھ میزائلوں میں کلسٹر وارہیڈز استعمال کیے گئے جس سے مختلف علاقوں میں نقصان ریکارڈ کیا گیا خاص طور پر حیفا بندرگاہ کے قریب
جنگ اور سفارتکاری کے درمیان بڑھتی کشیدگی مستقبل غیر یقینی
اس دوران اسرائیلی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال رہا اور آنے والے میزائلوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔ فوج کی جانب سے شہریوں کو مسلسل ہدایات دی جا رہی ہیں کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں
دوسری طرف عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں جہاں امریکی صدر کے بیانات سے قبل تیل کی تجارت میں اچانک اضافہ ہوا جس نے اندرونی معلومات کے استعمال کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق چند منٹ پہلے بڑی تعداد میں سودے کیے گئے جس سے بعض افراد نے بھاری منافع کمایا
اسی طرح کرپٹو بیٹنگ پلیٹ فارمز پر بھی مشکوک شرطیں لگائی گئیں جہاں جنگ بندی کے امکانات پر بڑی رقم لگائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق کچھ اکاؤنٹس نے وقت سے پہلے شرط لگا کر ممکنہ طور پر لاکھوں ڈالر کمانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے
مجموعی طور پر صورتحال نہایت پیچیدہ ہو چکی ہے جہاں ایک طرف جنگی خطرات بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف سفارتی بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے عالمی برادری اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں اور آنے والے دن اس خطے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں

