Fri. Mar 20th, 2026

ایران اسرائیل جنگ سے تیل کی قیمتیں ایک سو دس ڈالر تک پہنچ گئیں

ایران اسرائیل جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں ایک سو دس ڈالر تک پہنچ گئیں اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ کشیدگی نے تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی بحران شدت اختیار کر گیا اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اسرائیل ایران تنازعہ کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے نئی مشکل بن گیا توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچنے سے عالمی تیل سپلائی متاثر اور قیمتیں بڑھ گئیں ماہرین کے مطابق جاری جنگ تیل کی قیمتوں کو طویل عرصے تک بلند رکھ سکتی ہے
ایران اسرائیل جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں ایک سو دس ڈالر تک پہنچ گئیں اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ کشیدگی نے تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی بحران شدت اختیار کر گیا اور تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اسرائیل ایران تنازعہ کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے نئی مشکل بن گیا توانائی کے مراکز کو نقصان پہنچنے سے عالمی تیل سپلائی متاثر اور قیمتیں بڑھ گئیں ماہرین کے مطابق جاری جنگ تیل کی قیمتوں کو طویل عرصے تک بلند رکھ سکتی ہے

ایران اسرائیل جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے جہاں تیل کی قیمتیں ایک سو دس ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو توانائی کا بحران کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے

رپورٹس کے مطابق ایران میں توانائی کے اہم مراکز کو نقصان پہنچا ہے جبکہ آبنائے ہرمز جو دنیا میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے عملی طور پر بند ہو چکی ہے اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے امریکا میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جو دو ہزار بائیس کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں

میدان جنگ میں اسرائیلی افواج نے تہران کے مشرقی علاقے نور پر حملہ کیا جبکہ ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں ایران کی اعلیٰ قیادت نے واضح کیا ہے کہ دشمنوں کو کسی بھی صورت میں تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ صرف اسرائیل کی نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کی جنگ ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اس جنگ میں قیادت کر رہا ہے اور اسرائیل اس کا اتحادی ہے ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون اس جنگ کو طول دے سکتا ہے

لبنان میں انسانی بحران کی سنگین صورتحال

لبنان میں بھی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقوں سے شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دیا ہے اطلاعات کے مطابق ایک بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہیں

اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی بے یقینی بڑھ رہی ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر توانائی کے انفراسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا تو دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور معیشتوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہوں گے

امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں عوام کی ایک بڑی تعداد اس جنگ کے حق میں نظر نہیں آتی جبکہ بعض حلقے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں

متعلقہ پوسٹس