ایران بحران پر عالمی تشویش میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جہاں ایران پر حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے ویانا میں قائم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکر جنرل رافیل گروسی نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں کسی بڑے جوہری حادثے کا سبب بن سکتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایران کی جوہری تنصیبات بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ اور تہران ریسرچ ری ایکٹر کو نقصان پہنچنے کے شواہد نہیں ملے تاہم خطرات بدستور موجود ہیں
رافیل گروسی نے آئی اے ای اے کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں فعال نیوکلیئر پاور پلانٹس اور تحقیقاتی ری ایکٹر موجود ہیں ایسے میں کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے انہوں نے بتایا کہ اب تک ایران سے ملحقہ ممالک میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے لیکن حالات کا تسلسل عالمی سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے
دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں خلیجی ممالک نے ایران کی جانب سے مبینہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی متحدہ عرب امارات کی نمائندہ شہاد مطر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں تین شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے انہوں نے اسے خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا کویت کے نمائندے ناصر عبداللہ الحین نے بھی ایران کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل اکاون کے تحت اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا
ایران کا مؤقف مسلسل حملوں اور شہری ہلاکتوں کا دعویٰ
ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملک خود مسلسل اور اندھا دھند حملوں کی زد میں ہے ایرانی مندوب علی بحرینی نے انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ اسکولوں اسپتالوں اور غیر فوجی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری جاں بحق ہوئے ان کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے میں ایک سو ساٹھ سے زائد طالبات ہلاک ہوئیں جبکہ تہران کے گاندھی اسپتال کو بھی نقصان پہنچا
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسوس نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ صحت کے مراکز کو تنازعات سے محفوظ رکھنا بین الاقوامی انسانی قانون کا تقاضا ہے انہوں نے خبردار کیا کہ طبی سہولیات کو نشانہ بنانا انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے
کشیدگی کے دوران بحرین اردن عمان کویت قطر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک میں میزائل حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ اسرائیل نے لبنان سے حزب اللہ کی کارروائیوں کے جواب میں فضائی حملے کیے ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کے شرکا کو خط بھی ارسال کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جارحیت جاری رہنے تک دفاع کا حق استعمال کیا جائے گا ایرانی مشن نے امریکی فوجی اڈوں کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران اگر فوری طور پر نہ رکا تو یہ پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کریں تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے اور جوہری سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے

