ایران جنگ میں مصنوعی ذہانت کا نیا دور
ایران پر حالیہ حملوں نے جدید جنگی حکمت عملی میں ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس جنگی منصوبہ بندی اور اہداف کے تعین میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے ماہرین کے مطابق اب بمباری اور میزائل حملوں کا عمل انسانی سوچ کی رفتار سے بھی زیادہ تیز ہو چکا ہے جس سے نہ صرف جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے بلکہ انسانی فیصلوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف اہداف پر ابتدائی بارہ گھنٹوں میں سینکڑوں حملے کیے جن میں اہم عسکری اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ان حملوں میں جدید مصنوعی ذہانت کے نظام استعمال کیے گئے جنہوں نے اہداف کی نشاندہی سے لے کر حملے کی منظوری تک کے عمل کو انتہائی مختصر وقت میں مکمل کیا ماہرین اس عمل کو ڈیسیژن کمپریشن قرار دے رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی کا وقت دنوں اور ہفتوں سے گھٹ کر منٹوں اور سیکنڈز تک محدود ہو گیا ہے
امریکی دفاعی اداروں نے گزشتہ برسوں میں نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسے نظام تیار کیے جو ڈرون فوٹیج ٹیلی کمیونیکیشن ڈیٹا سیٹلائٹ تصاویر اور انسانی انٹیلی جنس سے حاصل شدہ معلومات کو ایک ساتھ ملا کر تجزیہ کرتے ہیں یہ نظام مشین لرننگ کی مدد سے ممکنہ اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیتے ہیں اور یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ کون سا ہتھیار زیادہ مؤثر ہوگا اس عمل میں قانونی پہلوؤں کا ابتدائی جائزہ بھی خودکار انداز میں لیا جاتا ہے
ایران کا مصنوعی ذہانت پروگرام اور محدود وسائل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیز رفتار عمل کا ایک پہلو تشویشناک بھی ہے کیونکہ جب مشینیں سفارشات تیار کرتی ہیں تو انسانی افسران کے پاس فیصلے کے لیے بہت کم وقت رہ جاتا ہے اس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں انسانی نگرانی محض رسمی کارروائی تک محدود نہ ہو جائے بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر انسان صرف مشین کے تجزیے پر انحصار کرنے لگیں تو وہ حملے کے اخلاقی اور انسانی نتائج سے ذہنی طور پر دور ہو سکتے ہیں
ایران کے جنوبی علاقے میں ایک اسکول پر میزائل حملے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا اقوام متحدہ نے اسے انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جبکہ امریکی حکام نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا اس واقعے نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والے فیصلوں میں انسانی ہمدردی اور احتیاط کا عنصر کم ہو رہا ہے
دوسری جانب ایران نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے میزائل نظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے باعث اس کا پروگرام امریکا اور چین کے مقابلے میں محدود سمجھا جاتا ہے دفاعی ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں مصنوعی ذہانت لاجسٹکس تربیت مرمت اور فیصلہ سازی سمیت ہر شعبے میں مزید پھیلتی جائے گی
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت جنگی فیصلوں کو تیز اور مؤثر بنانے میں مدد دے سکتی ہے مگر اس کے ساتھ سخت نگرانی شفافیت اور عالمی قوانین کی پابندی ناگزیر ہے کیونکہ اگر رفتار کو ترجیح دے کر انسانی پہلو کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف میدان جنگ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں

