ایران میں مہنگائی اور عوامی ناراضگی
یہ خبری بلاگ ایران میں موجودہ حالات اور امریکی دھمکیوں پر مبنی ہے ایران میں مہنگائی اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کے خلاف مظاہرے ملک بھر میں پھیل چکے ہیں لوگ اب صرف معاشی مسائل پر احتجاج نہیں کر رہے بلکہ وہ حکومت کے سخت رویے اور کلریکی اقتدار کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں ایران نے تاریخ میں کئی بحران دیکھے ہیں مگر موجودہ حالات ایک نئے چیلنج کی نشاندہی کر رہے ہیں امریکی پابندیاں اور اسرائیل کے دباؤ نے حکومت کو مزید تنہا کر دیا ہے مظاہروں کا دائرہ تہران سے دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے اور لوگ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں حکومت نے ابتدا میں مظاہروں کو معمولی قرار دیا مگر حالات جلد ہی قابو سے باہر ہو گئے
ایرانی عوام کی ناراضگی کی بنیاد صرف روزمرہ مشکلات نہیں بلکہ حکومت کی غیر ملکی مداخلتیں بھی ہیں عوام محسوس کر رہے ہیں کہ حکومت نے اپنے ملک کی ترجیحات سے زیادہ بیرونی مہمات کو اہمیت دی ہے کرنسی کی گراوٹ اور مہنگائی نے عوام میں مایوسی پیدا کی حکومت نے مظاہرین کو دبانے کی کوشش کی مگر یہ حکمت عملی ناکام رہی ہزاروں افراد کی ہلاکت اور انٹرنیٹ کی بندش نے مظاہروں کو روکا مگر عوام کی ناراضگی کم نہیں ہوئی اس دوران امریکی صدر نے ایران پر عسکری کارروائی کی دھمکی دی اور حکومت کی تبدیلی کے امکانات پر بات کی انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس مضبوط آپشنز موجود ہیں
ایران کی حکومت نے بھی خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کا فوری جواب دیا جائے گا تاریخی طور پر امریکہ نے ماضی میں حکومتیں بدلنے کی کوشش کی ہے ایران میں بھی 1953 میں منتخب وزیر اعظم کی برطرفی اس کی مثال ہے
امریکی دھمکیاں اور عسکری اقدامات کے امکانات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی تبدیلی عام طور پر دو راستوں سے ہوتی ہے یا براہ راست شکست اور قبضے سے یا اندرونی زوال سے موجودہ حالات کسی بھی راستے سے مطابقت نہیں رکھتے حکومت کے پاس اب بھی اہم وسائل موجود ہیں تیل کی برآمدات جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز وفادار ہیں
اور اپوزیشن منتشر ہے اسرائیل بھی امریکہ کو ایران کے خلاف مائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایک تنازعہ پیدا ہو مظاہروں کے دوران سوشل میڈیا اور اسٹار لنک کے ذریعے معلومات کی ترسیل کی گئی جس سے حکومت کی معلوماتی پالیسی متاثر ہوئی کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے محض عوامی غصہ نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی کے تحت ہوئے ہیں ایران نے مظاہروں کو سختی سے دبایا اور حکومت نے اپنا تسلط قائم رکھا امریکہ اگر فوجی کارروائی کرے تو ایران فوری جواب دے گا اور خلیج فارس کی اہم تجارتی راہیں
بند کر سکتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس حقیقی آپشنز بہت محدود ہیں اور کسی بھی غلط قدم سے خطے میں بڑے بحران کا امکان ہے ایران میں موجودہ حالات حکومت کی بقا اور عوامی غصہ کے درمیان توازن کا امتحان ہیں بیرونی طاقتیں اگر حکومت بدلنے کی کوشش کریں تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں عوام کی حمایت اور ملک کی خودمختاری ہی اصل طاقت ہے اور اس میں امریکی یا اسرائیلی خواہشات کا کوئی دخل نہیں اس وقت ایران ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے مگر حکومت نے اپنی مضبوطی اور وسائل کے ذریعے حالات پر قابو پایا ہوا ہے عوام کی مشکلات برقرار ہیں مگر بیرونی مداخلت کی کامیابی ناممکن لگتی ہے

