ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی دعویٰ مسترد کر دیا
ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے تہران نے امریکی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے اس اہم سمندری راستے کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ دو امریکی جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے ہیں اور وہاں بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام کر رہے ہیں تاکہ عالمی بحری راستہ محفوظ بنایا جا سکے
تاہم ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی معلومات درست نہیں ہیں اور یہ محض پروپیگنڈا ہے
اس صورتحال میں عالمی میڈیا نے بھی اس تنازع کو نمایاں کیا ہے اور کئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ یہ سمندری راستہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے
ایران امریکہ کشیدگی آبنائے ہرمز بحران عالمی توانائی رسد بحران 2026 یہ وہ اہم کی ورڈز ہیں جو اس خبر میں مسلسل زیر بحث ہیں کیونکہ دنیا کی معیشت اس راستے کی سلامتی سے براہ راست جڑی ہوئی ہے
امریکی حکام کے مطابق ایران نے گزشتہ مہینے اس علاقے میں بارودی سرنگیں نصب کی تھیں جس کے بعد کئی بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور بعض جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑے
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے دفاعی حق کے تحت اقدامات کر رہا ہے اور سمندری حدود کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے
امریکی صدر نے بھی اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم یہ آسان کام نہیں ہوگا کیونکہ صورتحال پیچیدہ ہے اور کئی ممالک اس میں دلچسپی رکھتے ہیں
رپورٹس کے مطابق کچھ جہازوں کو ایران کی اجازت کے بعد گزرنے دیا گیا ہے لیکن صرف مخصوص حالات اور شرائط کے تحت یہ عمل ممکن ہوا ہے
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید بڑھا تو عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ خلیج فارس کو عالمی سمندری راستوں سے جوڑتا ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ کشمکش صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثر ڈالنے والی صورتحال بن چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا حل عالمی سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن سمجھا جا رہا ہے

