Mon. Feb 23rd, 2026

ایران کا موقف امریکی حملے پر سخت ردعمل

ایران کا موقف: امریکی حملے پر سخت ردعمل امریکہ کی محدود حملے کی تیاری اور ایران کی ردعمل تہران میں ایران کی دفاعی پالیسی اور عالمی کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی تفصیل ایران کی تاریخ میں کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کا موقف خطے میں کشیدگی: ایران کا قومی دفاع اور امریکی فوجی تعیناتی ایران کی مذاکراتی ٹیم اور اصولی موقف عالمی ماہرین کی رائے: ایران اور امریکہ تعلقات ایران کی خودمختاری اور جارحیت کے جواب کی تیاری امریکہ کی فوجی تعیناتی کے باوجود ایران کی مضبوطی
ایران کا موقف: امریکی حملے پر سخت ردعمل امریکہ کی محدود حملے کی تیاری اور ایران کی ردعمل تہران میں ایران کی دفاعی پالیسی اور عالمی کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ مذاکرات کی تفصیل ایران کی تاریخ میں کبھی ہتھیار نہ ڈالنے کا موقف خطے میں کشیدگی: ایران کا قومی دفاع اور امریکی فوجی تعیناتی ایران کی مذاکراتی ٹیم اور اصولی موقف عالمی ماہرین کی رائے: ایران اور امریکہ تعلقات ایران کی خودمختاری اور جارحیت کے جواب کی تیاری امریکہ کی فوجی تعیناتی کے باوجود ایران کی مضبوطی

ایران کا موقف واضح: کسی بھی امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کوئی بھی حملہ، چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو، جارحیت کے مترادف ہوگا اور اس کا جواب دیا جائے گا ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے تہران میں ایک نیوز بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ کوئی محدود حملہ نہیں ہوتا کسی بھی قسم کی جارحیت کو جارحیت ہی سمجھا جائے گا اور ہر ریاست اپنے دفاع کے حق میں جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ ایران بھی اسی اصول کے تحت کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف محدود حملے پر غور کر رہے ہیں اگر ایران نے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا تو انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں

دونوں ممالک نے سوئٹزرلینڈ میں عمان کی ثالثی میں غیر مستقیم مذاکرات کا دوسرا دور مکمل کیا ہے اس مذاکرات کے دوران خطے میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ دیکھا گیا ہے ایران اور عمان نے تصدیق کی ہے کہ مزید مذاکرات جمعرات کو ہوں گے جبکہ امریکہ کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی

ایران کی نمائندگی مذاکرات میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کی جانب سے نمائندگی صدر کے داماد اور نمائندہ سٹیو وٹکوف کر رہے ہیں مذاکرات میں ایران کے موقف کو مستحکم اور اصولی رکھا جا رہا ہے

مذاکرات میں اصولی موقف کا برقرار رہنا

امریکی نمائندے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے کہ ایران نے امریکی فوجی تعیناتی کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے کیوں انکار کیا باقائی نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے تاریخ کے ہر موڑ پر کبھی بھی ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے موقف پر قائم رہی

تہران میں جاری اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے حقوق کے لیے کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور مضبوط جواب دینے کے لیے تیار ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے فوجی دباؤ ڈالنے کی کوششیں کسی حد تک ایران کے موقف پر اثر انداز نہیں ہو سکیں

خطے میں کشیدگی کے بڑھنے کے باوجود ایران مذاکراتی میز پر بھی اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھے ہوئے ہے اس صورتحال میں عالمی برادری کی توجہ خطے میں قیام امن اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت کی طرف مرکوز ہو گئی ہے

ایران کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت اور قومی استقامت کو بروئے کار لائیں گے اور اس اصولی موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی حالات میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا

یہ صورتحال خطے میں عالمی سیاسی اور فوجی ماہرین کی بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے جو ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مستقبل میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور مذاکرات کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں

متعلقہ پوسٹس