ایران کے انقلابی گارڈز کے میزائل حملے
ایران کے انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن کے مطابق یہ حملے ایران کی جدید اور ہدف پر درست نشانہ بنانے والی مائع اور ٹھوس ایندھن والی میزائل نظاموں اور حملہ آور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں بھی کی گئی ہیں جس کا مقصد علاقے میں کشیدگی پیدا کرنا اور دشمن کو خبردار کرنا ہے
کویتی فوج نے بتایا ہے کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہی ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایک ڈرون نے ملک کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے میں آگ لگا دی ہے علاقے میں چار ہفتے سے جاری جنگ کے دوران ایران کی جانب سے خلیج کے ممالک پر یہ حملے بڑھتے جا رہے ہیں جس سے خطے میں سلامتی اور استحکام کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اس دوران کویت کی فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہری اور فوجی تنصیبات کو نقصان سے بچانے کی کوشش کی ہے
پاکستان نے خطے میں امن قائم کرنے کے لئے جاری کوششوں کو خوش آمدید کہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لئے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے
عالمی برادری کی مداخلت کی ضرورت
کہا کہ پاکستان امن کے فروغ اور جنگ بندی کے لئے کی جانے والی ہر کوشش کی مکمل حمایت کرتا ہے پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لئے پرعزم ہے اور چاہتا ہے کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں پر منفی اثرات کم ہوں
ایران کی جانب سے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی ہے اور عالمی برادری کی فوری مداخلت کی ضرورت ہے پاکستان کی کوششیں امن قائم رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو خطے میں پائیدار امن فراہم کر سکتے ہیں پاکستانی قیادت کا موقف واضح ہے کہ تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مزید خونریزی اور تباہی سے بچا جا سکے اس وقت دنیا کی نظریں خلیج فارس پر مرکوز ہیں اور خطے میں ہر اقدام کا اثر عالمی مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات پر پڑ رہا ہے
خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے عالمی اداروں اور پڑوسی ممالک کو ثالثی کی پیشکش کرنی چاہیے تاکہ جنگ بندی ممکن ہو سکے اور عام شہری محفوظ رہیں پاکستان کی کوششیں اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں اور یہ ظاہر کرتی ہیں کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مضبوط سیاسی قیادت کی ضرورت ہے خطے کے ممالک کو چاہیے کہ وہ فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکیں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی طرف قدم بڑھائیں تاکہ استحکام اور ترقی ممکن ہو سکے

