یورپی یونین کا خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
یورپی یونین کے رہنماؤں نے خلیجی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایران کی جانب سے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔ یہ حملے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ یورپی رہنما، خاص طور پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس، نے جمعرات کو برسلز میں خلیج تعاون کونسل کے حکام سے ملاقات کی اور ایران کے ان حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔
یورپی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایرانی حملے خطے اور عالمی سطح پر سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر حملے بند کرے۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ خلیجی ممالک کو اپنے تحفظ اور استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔ وہ اپنی سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے ہر اقدام کر سکتے ہیں۔
الجزیرہ کے نمائندے اسامہ بن جاوید کے مطابق، یورپی رہنماؤں کا پیغام یہ تھا کہ یورپ اپنے خلیجی اتحادیوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔ تاہم یورپ ایسی صورت حال کو ترجیح دیتا ہے جس میں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اس کے اثرات خطے اور عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران اور اسرائیلی اقدامات میں اب تک ایک ہزار دو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے لبنان میں بھی اپنی فوجی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔ امریکی حکام نے اعلان کیا کہ
امریکی فوجی اڈوں کے استعمال پر یورپی ممالک کی رائے
بین الاقوامی پانیوں میں ایک ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ ایران کی جانب سے قطر، بحرین اور کویت سمیت دیگر ممالک پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
فرانس اور برطانیہ نے اپنے بحری جہاز اور فضائی دفاعی اثاثے قبرص بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ کے ایک بحری اڈے پر ایرانی ساختہ ڈرون حملہ کر چکا ہے، جس سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ اٹلی نے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے بحری اثاثے قبرص بھیجے گا۔ دیگر یورپی ممالک، ہالینڈ اور اسپین بھی اس معاملے میں شریک ہیں۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وہ اپنے خلیجی اتحادیوں کو فضائی دفاعی نظام فراہم کریں گے تاکہ ایرانی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
دریں اثنا برطانیہ، یونان اور پرتگال نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔ تاہم اسپین نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ردعمل دیا۔ یورپی رہنماوں کا یہ اقدام خطے میں امن قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خلیجی ممالک بھی اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے یورپ کی حمایت چاہتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سیاسی اور اقتصادی حالات پر اثر ڈال رہی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات سامنے آ گئے ہیں۔ یورپی یونین کے اقدامات سے یہ پیغام جا رہا ہے کہ بین الاقوامی برادری خلیج کے ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے متحد ہے۔ ایران سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے تاکہ خطے میں امن قائم رہے۔

