بلیک سی میں روسی تیل ٹینکر پر ڈرون حملہ
بلیک سی میں جمعرات کے روز ایک روسی تیل لے جانے والے ترک ٹینکر پر مارین ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں دھماکہ ہوا۔ ترک ٹرانسپورٹیشن وزیر عبدالقادر اورال اوغلو کے مطابق یہ واقعہ استنبول کے بوسفورس اسٹراٹ کے قریب پیش آیا، اور حملے میں تمام 27 عملہ محفوظ رہے
وزیر نے بتایا کہ واقعہ صبح کے ابتدائی اوقات میں ہوا اور اس کے فوراً بعد کوسٹ گارڈ کو بھیج دیا گیا تاکہ جہاز کی مدد کی جا سکے۔ متاثرہ جہاز کا نام الٹورا تھا، جو روس کے نووروسیسک بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور تقریباً ایک ملین بیرل خام تیل لے کر جا رہا تھا۔ جہاز تقریباً مکمل لوڈ کے ساتھ بلیک سی میں سفر کر رہا تھا
اورال اوغلو نے وضاحت کی کہ یہ حملہ شاید جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا، کیونکہ حملہ ترک سرحدی پانیوں کے فوراً باہر ہوا الٹورا کا پرچم سیرالیون کے تحت ہے اور یہ یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے سنڈی کی گئی شپوں میں شامل ہے
شپ ٹریکنگ اور ریفینٹِو اے آئی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق، الٹورا کا مالک چین کی کمپنی سی گریس شپنگ لمیٹڈ ہے اور انتظامیہ ترکی کی پرغامون ڈینیزچلک کے زیر انتظام ہے۔ حملے کے بعد جہاز کے برج پر دھماکہ ہوا اور پانی انجن روم میں داخل ہو گیا، جس کے بعد عملے نے ترک حکام سے مدد طلب کی
روس اور یوکرین کشیدگی اور عالمی تجارت پر اثرات
یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں ہونے والے دیگر حملوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جو مغربی پابندیوں والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو روسی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں یا وہاں سے آ رہے ہیں۔ پچھلے سال بھی یوکرائنی نیول ڈرونز نے روس جانے والے ٹینکرز کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں شپ انشورنس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور روس نے انتقامی اقدامات کی دھمکی دی، جبکہ ترکی نے پرامن رویہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔
بلیک سی میں یہ حملہ روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے جاری جنگ کے تناظر میں ہوا ہے، اور یہ خطہ تجارتی مال برداری کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ روم سے جڑا ہوا ہے۔ اس واقعے پر فوری طور پر ماسکو یا کیف سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا
حالیہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ بلیک سی میں تیل کی ترسیل کے دوران سیکورٹی خطرات بڑھ چکے ہیں اور عالمی تجارت میں اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ ترک حکام نے یقین دلایا کہ تمام عملہ محفوظ ہے اور جہاز کی نگرانی کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ حادثے کے مزید خطرات سے بچا جا سکے

