بھارت کی فضائیہ کے ٹيجس طیارے کا نیا حادثہ
بھارت کی فضائیہ کے لیے ایک اور دھچکا سامنا ہے جب ایک نئے طرز کے لڑاکا طیارے ٹيجس نے ہنگامی لینڈنگ کے دوران رن وے سے تجاوز کر لیا اور طیارے کو شدید نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے پائلٹ نے بروقت ایجیکشن کر کے اپنی جان بچا لی۔ یہ واقعہ فروری کے سات تاریخ کو پیش آیا اور بھارتی میڈیا نے اسے بریک فیل ہونے کے سبب قرار دیا ہے
اس حادثے کے بعد بھارت کی فضائیہ نے اپنے تقریباً تیس ٹيجس طیاروں کو مکمل تکنیکی معائنہ کے لیے زمین پر روک دیا ہے تاکہ کسی بھی خرابی کا جلد از جلد پتہ لگایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ یہ تیاری بھارت کی فضائیہ کی حفاظت اور اپنے عملے کی حفاظت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے
ٹيجس طیارے کی نئی شکل، جو مقامی کمپنی ہندستان ایرواسپیس لمیٹڈ نے تیار کی ہے، میں بہت سی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں لیکن اس کے باوجود مسلسل فراہمی میں تاخیر اور حالیہ حادثات نے بھارت میں اس پروگرام کے بارے میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ بنیادی وجہ جی ای ایرواسپیس کی جانب سے انجن کی فراہمی میں تاخیر بتائی جا رہی ہے
یہ تیسرا واقعہ ہے جب ٹيجس طیارہ مکمل طور پر کھو گیا ہے۔ پہلے حادثے میں مارچ دو ہزار چون میں جیسلمیر کے قریب ایک فائر پاور مظاہرے کے دوران طیارہ گر گیا، اور پائلٹ نے محفوظ طریقے سے ایجیکشن کیا۔ دوسرا حادثہ نومبر دو ہزار پچیس میں دبئی ایئرشو کے آخری دن ہوا، جو مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ایئرشو ہے
بھارت کی وزارت دفاع کے معاہدے اور منصوبے
بھارت کی وزارت دفاع نے فروری دو ہزار اکیس میں ہندستان ایرواسپیس لمیٹڈ کے ساتھ آٹھے تئیس ارب روپے کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت تریسٹھ ٹيجس طیارے فراہم کیے جانے تھے۔ بعد میں ستمبر دو ہزار پچیس میں مزید ستانوے نئے طیاروں کے لیے چھ سو تئیس ارب روپے کا معاہدہ بھی ہوا۔ یہ معاہدے بھارت کی فضائیہ کی طاقت میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی کوششوں کا حصہ ہیں
بھارتی میڈیا کے مطابق حالیہ حادثات کے باوجود فضائیہ اپنے مشن اور حفاظت کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ طیارے کے پائلٹس کی تربیت اور جدید تکنیکی معائنہ اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ٹيجس پروگرام کی اہمیت بھارت کی فضائی حدود کی حفاظت اور ملکی دفاع کی تیاری میں نہایت اہم ہے
اس سلسلے میں فضائیہ اور ہندستان ایرواسپیس لمیٹڈ کی مشترکہ ٹیم نے حادثے کی وجوہات جانچنے کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ کسی بھی تکنیکی خرابی کو جلد دور کیا جا سکے اور باقی طیاروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ اقدامات بھارت کی فضائیہ کی مضبوطی اور اپنے عملے کی سلامتی کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں
اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مکمل حفاظتی انتظامات اور بروقت معائنہ کس حد تک اہم ہیں تاکہ فضائی مشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے

