Fri. Apr 10th, 2026

تفتان بارڈر اپڈیٹ 10 ہزار سے زائد پاکستانی ایران سے پاکستان داخل

ہزاروں پاکستانی ایران میں کشیدہ صورتحال کے بعد تفتان بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے ہیں جبکہ حکام نے مکمل انتظامات کر لیے ہیں۔ ایران میں حالات کے باعث 10 ہزار سے زائد پاکستانی شہری تفتان بارڈر سے واپس پاکستان داخل ہوئے ہیں اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایران سے پاکستانی زائرین، طلبہ اور تاجر بڑی تعداد میں واپس آ رہے ہیں جبکہ تفتان بارڈر پر امیگریشن نظام فعال ہے۔ علاقائی کشیدگی کے بعد ہزاروں پاکستانی ایران سے واپس پہنچ گئے ہیں اور سرحدی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تفتان بارڈر پر پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے خصوصی سہولیات اور سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔
ہزاروں پاکستانی ایران میں کشیدہ صورتحال کے بعد تفتان بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے ہیں جبکہ حکام نے مکمل انتظامات کر لیے ہیں۔ ایران میں حالات کے باعث 10 ہزار سے زائد پاکستانی شہری تفتان بارڈر سے واپس پاکستان داخل ہوئے ہیں اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایران سے پاکستانی زائرین، طلبہ اور تاجر بڑی تعداد میں واپس آ رہے ہیں جبکہ تفتان بارڈر پر امیگریشن نظام فعال ہے۔ علاقائی کشیدگی کے بعد ہزاروں پاکستانی ایران سے واپس پہنچ گئے ہیں اور سرحدی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تفتان بارڈر پر پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے خصوصی سہولیات اور سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔

پاکستانیوں کی بڑی تعداد ایران سے واپسی تفتان بارڈر پر صورتحال اور انتظامات

کوئٹہ ایران میں حالیہ علاقائی کشیدگی اور حالات میں تبدیلی کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے واپس وطن آنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تفتان بارڈر پر آمد و رفت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

سرکاری ذرائع کے مطابق دس ہزار سے زائد پاکستانی شہری جن میں زائرین طلبہ تاجر اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں ایران سے واپس پاکستان پہنچ چکے ہیں

حکام کے مطابق بارڈر پر امیگریشن کے نظام کو مکمل طور پر فعال رکھا گیا ہے تاکہ آنے والے افراد کی جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق بروقت اور منظم طریقے سے مکمل کی جا سکے

متعلقہ اداروں نے بتایا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور بارڈر پر عملہ چوبیس گھنٹے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا مشکل پیش نہ آئے

ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق فروری کے آخر سے اپریل کے آغاز تک مجموعی طور پر دس ہزار سے زیادہ افراد تفتان بارڈر کے ذریعے پاکستان داخل ہوئے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے

بارڈر پر چوبیس گھنٹے سیکیورٹی اور سہولیات کی فراہمی

انہوں نے بتایا کہ آنے والے افراد میں بڑی تعداد ان پاکستانی شہریوں کی ہے جو ایران میں تعلیم حاصل کر رہے تھے یا زیارت کے لیے گئے تھے اور موجودہ صورتحال کے باعث انہوں نے فوری واپسی کو ترجیح دی ہے

بارڈر انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی کے تمام اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور تمام مسافروں کی محفوظ آمد یقینی بنائی جا سکے

حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ بارڈر پر نظام کو بہتر اور منظم انداز میں چلایا جا سکے

مسافروں کے لیے خوراک پانی اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے

بارڈر حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور جیسے جیسے مزید افراد واپس آ رہے ہیں انتظامات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے

حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تمام آنے والے شہریوں کو مکمل تحفظ اور سہولت فراہم کی جائے گی اور بارڈر پر ہر ممکن مدد جاری رہے گی

یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ علاقائی کشیدگی کے اثرات سرحدی آمد و رفت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں تاہم ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں تاکہ عوام کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو

متعلقہ پوسٹس