پاکستانی شہری تفتان سرحد پر ایران سے نکلنے کی کوشش میں مصروف
تفتان سرحد پر موجود پاکستانی شہریوں نے ایران سے نکلنے کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کیا، جہاں سفارت خانوں اور عالمی خبروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہفتے کے روز کیے گئے حملوں کے بعد صورتحال غیر مستحکم ہو گئی تھی ایرانی شہر تہران میں زوردار دھماکوں کے بعد شہریوں میں خوف اور بے چینی پھیل گئی اور پاکستانی شہری جلد از جلد محفوظ مقام پر پہنچنے کے لیے روانہ ہو گئے
آزاد ذرائع کے مطابق تفتان سرحد پر افغان اور پاکستانی حکام کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد میں لوگ اپنی بیگ اور سامان لیے قطار میں کھڑے تھے جہاں ہزاروں افراد نے پیر کے روز سرحد عبور کی کوشش کی اور بڑی تعداد میں سامان ہاتھ میں یا گاڑیوں میں لے کر آگے بڑھتے رہے۔ 38 سالہ تاجر عامر محمد نے بتایا کہ تہران اور دیگر شہروں سے ہمارے پاکستانی بھائی سرحد پر پہنچنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ میں شدید مشکلات پیدا ہو گئی
تفتان سرحد کو اکیلا اور دور دراز سمجھا جاتا ہے، اور یہاں سے کوئٹہ تقریباً پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سرحد کے گیٹ کے قریب ایران کا جھنڈا نصف افرا ہوا تھا اور فوجی چوکی پر کھڑے نظر آئے، جس سے علاقے کی سنجیدگی واضح ہو رہی تھی۔ زیادہ تر افراد نے اپنے بھاری بھرکم سامان کو پیدل سرحد عبور کروایا جبکہ تجارتی گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی نظر آئیں
49 سالہ حاجی ارشاد احمد نے بتایا کہ وہ تہران کے ایک ہاسٹل میں قیام پذیر تھے جب قریب میں میزائل داغے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹل کے قریب ایک فوجی اڈہ تھا اور وہاں سے کئی میزائل داغے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور وہاں سے محفوظ طریقے سے سرحد تک پہنچایا گیا
وزیر اعظم شہباز شریف کی بین الاقوامی قوانین پر رائے
وزیر اعظم شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی روایات کے مطابق ریاست یا حکومت کے سربراہان کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس اقدام کو دنیا کے لیے خطرناک مثال قرار دیا
تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک استاد صاقب نے بتایا کہ روانگی سے پہلے صورتحال معمول کے مطابق تھی لیکن ہفتے کی رات کی کارروائی نے شہریوں کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کی وجہ سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کیے گئے
یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر ایران کی سکیورٹی کے بارے میں تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستانی شہریوں کی بروقت واپسی اور سرحد پر انتظامی سہولتیں یقینی بنانے کے اقدامات نے بہت سے افراد کی جانیں بچائیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا
تفتان سرحد پر یہ صورتحال نہ صرف انسانی ہجوم کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ بحران کے دوران موثر انتظام اور سفارت خانوں کی مدد شہریوں کے لیے کس قدر اہم ہوتی ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے، اور حکام کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات نے شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے میں مدد دی
اس واقعے نے خطے میں سیاسی اور فوجی کشیدگی کے اثرات کو بھی واضح کر دیا ہے، اور یہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ بحران کے دوران شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے

