جنگ کے سائے میں تہران کی زندگی ایک شہری کی کہانی
ایران کے دارالحکومت تہران میں جاری جنگی صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ایک مقامی خاتون جس کی عمر تقریباً تیس برس ہے نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر موجودہ حالات کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے۔ اس کے مطابق شہر میں خوف اور امید دونوں ایک ساتھ موجود ہیں اور لوگ ہر روز غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔
خاتون کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد بہت سے لوگ مرحلہ وار شہر چھوڑتے گئے خاص طور پر وہ افراد جو ممکنہ حملوں کے مقامات کے قریب رہتے تھے۔ ابتدا میں بڑی تعداد میں خاندانوں نے نقل مکانی کی مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ رفتار کچھ کم ہو گئی کیونکہ شہر چھوڑنا بھی آسان نہیں اور اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ معاشی حالات بہت خراب ہو چکے ہیں کیونکہ اس کی ملازمت عارضی طور پر بند ہو گئی ہے اور اب وہ اپنی جمع پونجی سے روزمرہ اخراجات پورے کر رہی ہے
تہران میں جنگی ماحول ایک مقامی خاتون نے روزمرہ زندگی کی حقیقت بتا دی
روزمرہ زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ شہر میں بازار ابھی تک کھلے ہیں اور لوگ ضروری اشیا خرید سکتے ہیں۔ البتہ ایندھن کی فراہمی پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ پہلے ایک گاڑی کو زیادہ سے زیادہ تیس لیٹر پیٹرول ملتا تھا لیکن اب اسے کم کر کے بیس لیٹر کر دیا گیا ہے۔ بعض پیٹرول پمپوں پر اس سے بھی کم مقدار دی جا رہی ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اس خاتون کا کہنا تھا کہ شہر کے کئی چھوٹے پولیس اسٹیشن بند کر دیے گئے ہیں جبکہ فوجی اڈوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام کی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں بعض اوقات شہریوں کی تلاشی لی جاتی ہے اور ان کے موبائل فون بھی چیک کیے جاتے ہیں۔ اس کے مطابق حکومت کے حامی افراد رات کے وقت سڑکوں پر نکل کر جھنڈے لہراتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں جس سے شہر کا ماحول مزید کشیدہ محسوس ہوتا ہے۔
فضائی حملوں کے بعد تہران کے حالات شہریوں کی زندگی کیسے بدل گئی
فضائی حملوں کے اثرات کے بارے میں اس نے بتایا کہ اس کی ایک دوست کی والدہ کا گھر گیشا کے علاقے میں ایک بڑے پولیس اسٹیشن کے سامنے واقع ہے جہاں شدید دھماکوں کے باعث عمارت کی کھڑکیاں اور دیواروں کے حصے تباہ ہو گئے۔ ایک اور واقعے میں نیلوفر اسکوائر کے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اس علاقے میں بہت زیادہ تباہی دیکھنے میں آئی اور کئی دکانیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
رات کے وقت نیند کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس خاتون نے کہا کہ بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بہت تیز سنائی دیتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس کی ایک دوست جو تہران پارس کے علاقے میں رہتی ہے مسلسل شور کے باعث سونے کے لیے دوائیں استعمال کر رہی ہے۔ ایک اور دوست نے بتایا کہ جب مہرآباد ہوائی اڈے کے قریب حملہ ہوا تو وہ کئی گھنٹے اپنے گھر کے غسل خانے میں چھپ کر بیٹھی رہی کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ عمارت کی چھت گرنے والی ہے۔
اس خاتون کا کہنا ہے کہ تہران ایک بہت بڑا شہر ہے اور ہر علاقے کے حالات مختلف ہیں۔ کہیں زندگی نسبتاً معمول کے مطابق چل رہی ہے جبکہ کہیں خوف اور تباہی کے مناظر واضح نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود شہری امید رکھتے ہیں کہ جلد امن بحال ہو گا اور وہ دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں گے

