دبئی کے قریب ایرانی حملے سے کروڈ آئل بردار جہاز آگ میں
دبئی کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز پر ایرانی حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کروڈ آئل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی توانائی کی تنصیبات اور تیل کے کنووں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اگر ایران نے سٹرائٹ آف ہرمز کھولنے میں تعاون نہ کیا تو ایرانی حملے کے بعد کویتی پرچم بردار جہاز المسمی آگ کی لپیٹ میں آ گیا جس میں تقریباً دو ملین بیرل تیل موجود تھا جس کی موجودہ قیمت دو سو ملین ڈالر سے زیادہ ہے دبئی حکام نے بتایا کہ آگ کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور کسی زخمی کی اطلاع نہیں ہے
ایرانی حملوں کے بعد تیل کی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ شروع ہو گیا ہے جس سے نہ صرف یورپ اور مشرق وسطی بلکہ امریکی صارفین کی جیب پر بھی اثر پڑا ہے امریکہ میں فی گیلن پیٹرول کی قیمت چار ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے اور یہ صورتحال ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بھی بن گئی ہے کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ توانائی کی قیمتیں کم کریں گے اور ملکی تیل و گیس کی پیداوار بڑھائیں گے
اس وقت اسرائیل اور ایران کے درمیان عسکری کشیدگی جاری ہے ایرانی میزائلوں کی کامیابی کی شرح تقریبا اسی فیصد ہے اور اسرائیل کے آئرن ڈوم سمیت مختلف دفاعی میزائل سسٹمز محدود حد تک کام کر رہے ہیں امریکی تھاڈ میزائل سسٹمز کا ساٹھ فیصد پہلے ہی استعمال ہو چکا ہے اس کے علاوہ ایران نے سٹرائٹ آف ہرمز کو جزوی طور پر بند کر رکھا ہے جس کی وجہ سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے
جنگ کے لیے امریکی انتظامیہ کی اضافی فنڈنگ کی درخواست
دونوں فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور امریکی صدر چاہتے ہیں کہ جنگ کو محدود مدت میں ختم کیا جائے لیکن ایران نے کہا ہے کہ ان کی فوجی دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تمام کوششیں اپنی سرحدوں کے دفاع پر مرکوز ہیں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران پاکستان سعودی عرب مصر اور ترکی نے ثالثی کی کوششیں کی ہیں لیکن ایرانی موقف سخت ہے اور وہ عالمی دباؤ کو نظر انداز کر رہے ہیں
دبئی اور کویت حکام نے جہاز کے نقصان کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور آئل اسپِل کے خدشات ظاہر کیے ہیں تیل کی عالمی مارکیٹ میں اس حملے کے فوری اثرات سامنے آ چکے ہیں اور مارکیٹ میں اضافہ دیکھا گیا ہے امریکی فوجی بھی مشرق وسطی میں تعینات ہو رہے ہیں تاکہ صورت حال پر نظر رکھی جا سکے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے اس دوران عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہر ملک کی اقتصادی صورتحال پر اثر ڈال رہا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کے لیے اضافی دو سو ارب ڈالر کی درخواست دی ہے جسے کانگریس سے منظوری درکار ہے اس دوران ایرانی تیل کی فراہمی اور سٹرائٹ آف ہرمز کا معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے درمیان تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور عالمی سرمایہ کار اس صورتحال کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں

