سوڈان سے لبنان تک جنگ نے پناہ گزینوں کا پیچھا نہ چھوڑا
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سوڈان دارفور اور ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین ایک بار پھر جنگ اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ممالک میں جاری تشدد اور سیاسی عدم استحکام سے بچنے کے لیے لبنان آئے تھے مگر اب یہاں بھی بمباری اور کشیدگی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے
بیروت کے علاقے اشرفیہ میں واقع سینٹ جوزف چرچ ان بے گھر اور پریشان حال لوگوں کے لیے ایک اہم پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں جیسوئٹ ریفیوجی سروس نامی تنظیم پناہ گزینوں کو رہائش خوراک اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے
ان پناہ گزینوں میں 32 سالہ سوڈانی خاتون رودینا بھی شامل ہیں جو اس وقت نو ماہ کی حاملہ ہیں اور کسی بھی وقت بچے کو جنم دے سکتی ہیں رودینا اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے برج البراجنہ میں رہ رہی تھیں مگر دو مارچ کو اسرائیلی حملوں کے بعد انہیں اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا
رودینا کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ساتھ رات کے اندھیرے میں پیدل نکلیں اور تقریباً تین گھنٹے تک مسلسل چلتی رہیں حمل کے آخری دنوں میں اتنا طویل سفر کرنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا جبکہ ان کے بچے بھی اس مشکل صورتحال سے شدید متاثر ہوئے خاص طور پر ان کی سات سالہ بیٹی جو آٹزم کا شکار ہے
جب وہ رات تقریباً ایک بجے اشرفیہ پہنچیں تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے اور کس سے مدد مانگنی ہے اسی دوران کچھ سوڈانی خواتین نے انہیں سینٹ جوزف چرچ کے بارے میں بتایا جہاں پناہ گزینوں کو عارضی رہائش فراہم کی جاتی ہے
لبنان میں چرچ پناہ گزینوں کے لیے امید کی کرن بن گیا
یہ چرچ کئی برسوں سے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے لیے امید کی علامت بن چکا ہے یہاں مذہبی تقریبات کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں تاکہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے افراد ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم کر سکیں اور خود کو تنہا محسوس نہ کریں
جنگ کے حالیہ حالات کے بعد اس چرچ نے ایک مرتبہ پھر اپنے دروازے کھول دیے ہیں تاکہ بے گھر خاندان سڑکوں پر بھٹکنے کے بجائے کسی محفوظ جگہ پر رہ سکیں جیسوئٹ ریفیوجی سروس کے مطابق اس وقت یہاں تقریباً دو سو افراد رہ رہے ہیں جبکہ اس جگہ کی اصل گنجائش صرف اسی افراد کی ہے
یہاں رہنے والے افراد میں زیادہ تر سوڈان ایتھوپیا سری لنکا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مزدور شامل ہیں جن میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد موجود ہے
تنظیم کی جانب سے ان پناہ گزینوں کو گدے خوراک پانی بجلی اور گرم پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ آئندہ ہفتے سے بچوں کی تعلیم اور ذہنی صحت کے پروگرام شروع کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ جنگ اور ہجرت کے صدمات کو کم کیا جا سکے
رودینا اور ان جیسے کئی خاندانوں کی کہانی ایک ہی سوال چھوڑ جاتی ہے کہ آخر انہیں ایسا محفوظ مقام کب ملے گا جہاں وہ خوف اور جنگ کے بغیر زندگی گزار سکیں کیونکہ ان کے بقول جہاں بھی جاتے ہیں جنگ ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے

