Fri. Feb 6th, 2026

غزہ میں انسانی امداد کی قلت پاکستان سمیت آٹھ ممالک کا مشترکہ بیان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری امدادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شدید بارشوں اور موسمی حالات نے غزہ کے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے بلا رکاوٹ امداد کی اپیل کی غزہ میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مدد کے لیے پاکستان اور سات دیگر ممالک نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی حمایت کا اعلان کیا پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ہنگامی امداد کی فوری ضرورت پر زور دیا
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری امدادی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا شدید بارشوں اور موسمی حالات نے غزہ کے عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے بلا رکاوٹ امداد کی اپیل کی غزہ میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مدد کے لیے پاکستان اور سات دیگر ممالک نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی حمایت کا اعلان کیا پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ہنگامی امداد کی فوری ضرورت پر زور دیا

غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر پاکستان سمیت آٹھ ممالک کی تشویش

غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے عوام اس وقت انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں جہاں جنگ کے اثرات کے ساتھ ساتھ شدید موسمی حالات نے مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے

بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں مسلسل بارشوں طوفانی ہواؤں اور سرد موسم نے بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ہزاروں خاندان خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں نہ مناسب تحفظ موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات میسر ہیں موسمی شدت کے باعث خیمے تباہ ہو رہے ہیں اور کئی مقامات پر پانی جمع ہونے سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں انسانی بحران صرف موسمی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ امدادی رسائی میں رکاوٹوں ضروری اشیاء کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث مزید سنگین ہو چکا ہے صحت کے مراکز پانی کی فراہمی بجلی اور رہائش کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے عام شہریوں خاص طور پر بچوں خواتین بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں

غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فوری ضرورت

مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے اداروں اور عالمی امدادی تنظیموں کی کوششوں کو سراہا گیا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود فلسطینی عوام کی مدد جاری رکھی ان ممالک نے مطالبہ کیا کہ امدادی اداروں کو غزہ اور مغربی کنارے میں بلا رکاوٹ کام کرنے دیا جائے کیونکہ ان کا کردار انسانی جانیں بچانے کے لیے نہایت اہم ہے کسی بھی قسم کی رکاوٹ ناقابل قبول قرار دی گئی

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ قابض طاقت پر دباؤ ڈالے تاکہ ضروری امدادی سامان کی آمد اور تقسیم میں حائل تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں خیمے طبی سہولیات صاف پانی ایندھن اور صفائی کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو شدید موسم سے بچایا جا سکے

وزرائے خارجہ نے جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے تسلسل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پائیدار امن کے لیے فوری بحالی کے اقدامات ضروری ہیں متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی ہسپتالوں کی تعمیر اور باعزت رہائش کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے

آخر میں کہا گیا کہ غزہ کے عوام ایک طویل عرصے سے مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ایک باعزت محفوظ اور پرامن زندگی کی طرف لے جایا جائے عالمی برادری کو متحد ہو کر فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ فلسطینی عوام کے دکھوں کا ازالہ ہو سکے

متعلقہ پوسٹس