Fri. Feb 6th, 2026

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود شہریوں پر حملے اور نقصان

غزہ میں حالیہ واقعات کے بعد بچوں اور عام شہریوں کو درپیش خطرات جنگ بندی کے باوجود جاری حملوں اور انسانی امداد کی مشکلات پر ایک جامع اور دوستانہ خبر جنگ بندی کے دوران غزہ میں ہونے والے حملوں میں بچوں سمیت قیمتی جانوں کا ضیاع امدادی سرگرمیوں کو درپیش چیلنجز اور عوامی مشکلات پر مبنی معلوماتی رپورٹ غزہ میں بے گھر خاندانوں پر حملوں کے بعد انسانی صورتحال مزید سنگین بچوں کی ہلاکتیں امدادی اداروں کی پریشانی اور عوام کی امن کی اپیل
غزہ میں حالیہ واقعات کے بعد بچوں اور عام شہریوں کو درپیش خطرات جنگ بندی کے باوجود جاری حملوں اور انسانی امداد کی مشکلات پر ایک جامع اور دوستانہ خبر جنگ بندی کے دوران غزہ میں ہونے والے حملوں میں بچوں سمیت قیمتی جانوں کا ضیاع امدادی سرگرمیوں کو درپیش چیلنجز اور عوامی مشکلات پر مبنی معلوماتی رپورٹ غزہ میں بے گھر خاندانوں پر حملوں کے بعد انسانی صورتحال مزید سنگین بچوں کی ہلاکتیں امدادی اداروں کی پریشانی اور عوام کی امن کی اپیل

غزہ میں حالیہ حملے اور بچوں کی ہلاکتیں

غزہ میں بچوں سمیت مزید جانی نقصان
غزہ میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں مقامی شہری دفاع کے ادارے کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے جن میں چار کم عمر بچے بھی شامل ہیں یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب جنگ بندی کے باعث حالات میں کسی حد تک بہتری کی امید کی جا رہی تھی

جنوبی غزہ میں ایک خیمے کو نشانہ بنایا گیا جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے اس حملے میں تین بچے اور ایک بالغ فرد جاں بحق ہوئے شمالی غزہ میں جبالیہ کے قریب ایک گیارہ سالہ بچی جان سے گئی جبکہ ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والی کارروائی میں ایک اور شہری کی جان چلی گئی خان یونس کے قریب بھی ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خوف اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے بچوں اور خواتین میں شدید ذہنی دباؤ پایا جا رہا ہے کئی خاندان اب بھی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں

اس دوران امدادی سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اسرائیلی حکام کی جانب سے متعدد غیر ملکی طبی اور فلاحی کارکنوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس پر عالمی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے امدادی اداروں کے مطابق نئی شرائط کے باعث ان کے لیے کام جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے

غزہ کے عوام میں خوف اور غیر یقینی صورتحال

کئی بین الاقوامی تنظیمیں جو زخمیوں کے علاج غذائی قلت کے شکار بچوں کی دیکھ بھال اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کر رہی تھیں اب اپنے عملے کی حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہیں ان اداروں کا کہنا ہے کہ عملے کی تفصیلات فراہم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کئی امدادی کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں

ادھر اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امداد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاہم عالمی سطح پر اس مؤقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ غزہ کی آبادی پہلے ہی شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امدادی سرگرمیاں محدود ہوئیں تو غذائی قلت اور بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے خاص طور پر بچوں اور کمزور افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے

غزہ کے عوام اس وقت امن اور تحفظ کے خواہاں ہیں مقامی شہریوں اور عالمی اداروں کی اپیل ہے کہ جنگ بندی کو مؤثر بنایا جائے اور انسانی امداد کو بلا رکاوٹ جاری رہنے دیا جائے تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے اور حالات میں بہتری آ سکے

متعلقہ پوسٹس