غزہ میں حالیہ حملے اور بچوں کی ہلاکتیں
غزہ میں بچوں سمیت مزید جانی نقصان
غزہ میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر عام شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں مقامی شہری دفاع کے ادارے کے مطابق مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے جن میں چار کم عمر بچے بھی شامل ہیں یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب جنگ بندی کے باعث حالات میں کسی حد تک بہتری کی امید کی جا رہی تھی
جنوبی غزہ میں ایک خیمے کو نشانہ بنایا گیا جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے اس حملے میں تین بچے اور ایک بالغ فرد جاں بحق ہوئے شمالی غزہ میں جبالیہ کے قریب ایک گیارہ سالہ بچی جان سے گئی جبکہ ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والی کارروائی میں ایک اور شہری کی جان چلی گئی خان یونس کے قریب بھی ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود خوف اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے بچوں اور خواتین میں شدید ذہنی دباؤ پایا جا رہا ہے کئی خاندان اب بھی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں
اس دوران امدادی سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اسرائیلی حکام کی جانب سے متعدد غیر ملکی طبی اور فلاحی کارکنوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی جس پر عالمی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے امدادی اداروں کے مطابق نئی شرائط کے باعث ان کے لیے کام جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے
غزہ کے عوام میں خوف اور غیر یقینی صورتحال
کئی بین الاقوامی تنظیمیں جو زخمیوں کے علاج غذائی قلت کے شکار بچوں کی دیکھ بھال اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کر رہی تھیں اب اپنے عملے کی حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہیں ان اداروں کا کہنا ہے کہ عملے کی تفصیلات فراہم کرنا خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کئی امدادی کارکن اپنی جانیں گنوا چکے ہیں
ادھر اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امداد کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں تاہم عالمی سطح پر اس مؤقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ غزہ کی آبادی پہلے ہی شدید مشکلات میں گھری ہوئی ہے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امدادی سرگرمیاں محدود ہوئیں تو غذائی قلت اور بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے خاص طور پر بچوں اور کمزور افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے
غزہ کے عوام اس وقت امن اور تحفظ کے خواہاں ہیں مقامی شہریوں اور عالمی اداروں کی اپیل ہے کہ جنگ بندی کو مؤثر بنایا جائے اور انسانی امداد کو بلا رکاوٹ جاری رہنے دیا جائے تاکہ معصوم جانوں کو بچایا جا سکے اور حالات میں بہتری آ سکے

