جنیوا میں اقوام متحدہ کا اہم بیان فلسطین کی صورتحال پر تشویش
جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ٹرک نے فلسطین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے مستقل آبادیاتی تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہو جس کے باعث نسلی تطہیر سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں
ٹرک نے اپنے خطاب میں کہا کہ خاص طور پر مغربی کنارے کے شمالی حصے میں گزشتہ ایک سال سے جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے ہیں رپورٹس کے مطابق تقریباً بتیس ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بدو چرواہا برادریوں کو آبادکاروں کے دباؤ اور تشدد کے باعث اپنے گاؤں چھوڑنا پڑے ہیں رام اللہ کے مشرق میں مخمس اور وادی اردن میں راس عین العوجا جیسے مقامات پر بھی اسی نوعیت کی صورتحال دیکھی گئی ہے
مغربی کنارے میں تقریباً تیس لاکھ فلسطینی مقیم ہیں جبکہ پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار بھی وہاں قائم بستیوں اور چوکیوں میں رہتے ہیں بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں تاہم اسرائیل کی موجودہ حکومت نے بستیوں کی توسیع کے عمل کو تیز کر دیا ہے بتایا جاتا ہے کہ رواں سال کے دوران ریکارڈ تعداد میں نئی بستیوں کی منظوری دی گئی ہے جس پر کئی ممالک اور تنظیموں نے تشویش ظاہر کی ہے
غزہ میں سنگین انسانی بحران اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی
انسانی حقوق کے ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں بھی صورتحال نہایت سنگین ہے یہاں تقریباً بائیس لاکھ آبادی میں سے بیشتر افراد تنازع شروع ہونے کے بعد کم از کم ایک بار بے گھر ہو چکے ہیں شدت اختیار کرتے حملے محلوں کی منظم تباہی اور انسانی امداد تک محدود رسائی ایسے حالات کو جنم دے رہی ہے جس سے مستقل آبادیاتی تبدیلی کا تاثر ملتا ہے
اسرائیلی وزیر خزانہ بظلیل سموترچ نے بھی فروری میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے فلسطینی علاقوں سے لوگوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کا ارادہ ظاہر کیا انہوں نے کہا کہ اوسلو معاہدے کو عملی طور پر ختم کر کے خودمختاری کی راہ پر آگے بڑھا جائے گا اور غزہ سمیت مغربی کنارے سے نقل مکانی کی حمایت کی جائے گی ان کے اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے خیالات خطے میں امن کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں
فلسطینی تحقیقی ادارے الشبکہ سے وابستہ محقق فتحی نمر کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ زمین اور کم سے کم عرب رکھنے کی سوچ کئی اقدامات کے پس منظر میں کارفرما دکھائی دیتی ہے ان کے مطابق اگر موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو مستقبل میں سیاسی حل مزید مشکل ہو سکتا ہے
مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جائے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے بصورت دیگر بے دخلی اور بے چینی کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ موجود رہے گا جو عام لوگوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا

