قطر میں 313 افراد کی گرفتاری ایران کے حملوں کے دوران گمراہ کن معلومات پھیلانے پر کارروائی
قطری حکام نے ایران کے حالیہ حملوں کے دوران سوشل میڈیا پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کرنے والے 313 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ قطر کے وزارت داخلہ کے مطابق یہ افراد “گمراہ کن معلومات اور افواہیں” پھیلا رہے تھے جو عوامی رائے کو متاثر کر سکتی تھیں۔ گرفتاریوں کا مقصد معاشرتی استحکام کو برقرار رکھنا اور اطلاعات کی درستگی کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے
گرفتار کیے گئے افراد مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں وزارت داخلہ کے اقتصادی اور سائبر جرائم کے شعبہ کی زیر نگرانی رکھا گیا ہے وزارت نے بیان میں کہا کہ یہ افراد “ویڈیوز بنا کر اور سوشل میڈیا پر گردش کر کے جھوٹی خبریں پھیلا رہے تھے جو عوام میں خوف اور بےچینی پیدا کر سکتی تھیں
یہ اقدام خلیجی ممالک میں ایران کے حملوں کے بعد تشویش کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ ایران نے حالیہ دنوں میں ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں، توانائی کے اداروں اور رہائشی علاقوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد خطے کے ممالک میں اطلاعات کی درستگی کے حوالے سے سخت اقدامات کیے گئے ہیں
اسی طرح بحرین میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا جن پر الزام تھا کہ وہ ایرانی حملوں کے اثرات دکھانے والی ویڈیوز بنا کر غلط خبریں پھیلا رہے تھے۔ کویت میں بھی تین افراد کو ایک ویڈیو کی وجہ سے گرفتار کیا گیا جس میں وہ ملکی صورتحال کا مذاق اڑا رہے تھے
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی وارننگز
متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کو بھی متنبہ کیا گیا کہ حساس تصاویر یا غیر مصدقہ معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ وہاں کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے واضح کیا کہ “واقعات کی جگہوں یا گرنے والے میزائل اور شیل کے نقصان کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا، شائع کرنا یا گردش کرانا ممنوع ہے”۔ سعودی عرب نے بھی اسی نوعیت کی وارننگ جاری کی ہے
ان سخت اقدامات کے باوجود سوشل میڈیا اور گروپ چیٹس میں میزائلوں، ڈرونز اور جنگ کے اثرات کی تصویریں اور ویڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد عوامی ردعمل کو قابو میں رکھنا اور افواہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بچنا ہے۔
خطے کے ممالک نے ایک پیغام واضح کر دیا ہے کہ جنگ کی صورتحال کے دوران معلومات کی درستگی اور ذمہ داری کے ساتھ خبریں شیئر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی معلومات تک رسائی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کی افواہوں یا گمراہ کن مواد کو پھیلنے سے روکنا بھی ان کی اولین ترجیح ہے
قطری حکام کی یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا پر موجود معلومات پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور جو بھی مواد عوامی رائے متاثر کرنے کا سبب بنے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی

