مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں بڑی جنگ کی وارننگ دے دی ہے امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کو مشرق وسطیٰ میں برقرار رکھے گا جب تک ایران کے ساتھ مکمل امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا ان کے مطابق امریکی بحری جہاز طیارے اور فوجی اہلکار مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا جواب دیا جا سکے اس بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال غیر یقینی ہے
دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیل لبنان میں حملے بند نہیں کرتا ایران کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کا احترام کریں اس کے برعکس اسرائیل نے لبنان میں حملے تیز کر دیے ہیں جس سے حالات مزید خراب ہو گئے ہیں
اسی دوران ایک بڑی پیش رفت میں اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے رہنما نائم قاسم کو بیروت میں ایک حملے کے دوران ہلاک کر دیا ہے اگر اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے
پاکستان کا امن مذاکرات میں کردار
تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا کیونکہ حزب اللہ کو ایران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اس واقعے نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہو سکتی ہے جو دنیا کی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اگر یہ راستہ متاثر ہوتا ہے تو عالمی معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے
پاکستان نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں اور تمام فریقین کو مذاکرات کی طرف آنا چاہیے پاکستان اس وقت امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جا سکے
یورپی ممالک نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دی ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے اٹلی اور فرانس سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ مزید کشیدگی سے عالمی امن کو خطرہ ہو سکتا ہے
مشرق وسطیٰ کی یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر فوری طور پر امن معاہدہ نہ ہوا تو ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے اثرات نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑیں گے اس لیے عالمی برادری کو چاہیے کہ فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرے اور اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکے

