Fri. Mar 6th, 2026

پاکستانی شہری کا دعویٰ ایران نے ٹرمپ کے قتل کے منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور کیا

پاکستانی شہری ٹرمپ سازش کیس ٹرمپ قتل منصوبہ مقدمہ امریکہ میں پاکستانی ملزم کیس ایران پر ٹرمپ کے خلاف سازش کا الزام امریکی عدالت میں پاکستانی شہری ٹرمپ کے خلاف مبینہ منصوبہ ایران امریکہ کشیدگی خبر پاکستانی شخص پر دہشت گردی مقدمہ امریکہ میں سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ٹرمپ بائیڈن نکی ہیلی سازش کیس منی کی ورڈز پاکستانی شہری کا دعویٰ ایران نے مجبور کیا امریکہ میں دہشت گردی مقدمہ خبر ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش ایران اور امریکہ تنازعہ خبر امریکی عدالت میں سنسنی خیز انکشاف پاکستانی ملزم کا عدالت میں بیان ٹرمپ کے خلاف سازش کی تحقیقات ایران سے تعلقات کا الزام امریکی سیاست سے متعلق مقدمہ عالمی سیاست کی بڑی خبر
پاکستانی شہری ٹرمپ سازش کیس ٹرمپ قتل منصوبہ مقدمہ امریکہ میں پاکستانی ملزم کیس ایران پر ٹرمپ کے خلاف سازش کا الزام امریکی عدالت میں پاکستانی شہری ٹرمپ کے خلاف مبینہ منصوبہ ایران امریکہ کشیدگی خبر پاکستانی شخص پر دہشت گردی مقدمہ امریکہ میں سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ٹرمپ بائیڈن نکی ہیلی سازش کیس منی کی ورڈز پاکستانی شہری کا دعویٰ ایران نے مجبور کیا امریکہ میں دہشت گردی مقدمہ خبر ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش ایران اور امریکہ تنازعہ خبر امریکی عدالت میں سنسنی خیز انکشاف پاکستانی ملزم کا عدالت میں بیان ٹرمپ کے خلاف سازش کی تحقیقات ایران سے تعلقات کا الزام امریکی سیاست سے متعلق مقدمہ عالمی سیاست کی بڑی خبر

پاکستانی شہری کا دعویٰ ایران نے مجھے ٹرمپ کے خلاف منصوبے میں شامل ہونے پر مجبور کیا

امریکہ میں ایک مقدمے کے دوران ایک پاکستانی شہری نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسے ایران کی ایک طاقتور فوجی تنظیم کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا اور اسی دباؤ کے باعث وہ ایک مبینہ منصوبے میں شامل ہوا اس شخص کا نام آصف مرچنٹ بتایا جا رہا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت چند اہم امریکی سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کے منصوبے میں کردار ادا کیا

عدالتی کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے اس معاملے میں شامل نہیں ہوا بلکہ اسے اپنی فیملی کے تحفظ کی فکر تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کے اہل خانہ تہران میں موجود تھے اور اسے خدشہ تھا کہ اگر اس نے انکار کیا تو اس کے خاندان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اسی خوف کے باعث اس نے بعض ملاقاتوں اور بات چیت میں حصہ لیا

امریکی حکام کے مطابق آصف مرچنٹ پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں کچھ افراد کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ کی جانب سے ایران کے ایک اہم فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایک فوجی کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی امریکی تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ اسی واقعے کے ردعمل کے طور پر بعض افراد نے امریکی شخصیات کو نشانہ بنانے کی بات کی

امریکہ میں دہشت گردی کے مقدمے کی سماعت ایران اور پاکستان کا نام بھی زیر بحث

عدالت میں آصف مرچنٹ نے مزید بتایا کہ تہران میں ہونے والی گفتگو کے دوران اسے کسی ایک خاص شخص کو قتل کرنے کا براہ راست حکم نہیں دیا گیا تھا تاہم اس کے بقول بات چیت کے دوران تین اہم شخصیات کے نام زیر بحث آئے تھے جن میں ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت کے صدر جو بائیڈن اور امریکی سیاست دان نکی ہیلی شامل تھیں اس بیان کے بعد عدالت میں موجود افراد کے درمیان اس مقدمے کی حساسیت پر مزید بحث شروع ہو گئی

دوسری جانب امریکی استغاثہ نے آصف مرچنٹ کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے سرکاری وکلا کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے پیش کیا گیا یہ دعویٰ کہ اسے مجبور کیا گیا تھا اس کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہیں حکام نے عدالت کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا کہ ابھی تک ایسی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی جو یہ ثابت کرے کہ ملزم واقعی دباؤ یا جبر کا شکار تھا

اس مقدمے نے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران میں بعض اہم اہداف کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ہلاک ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں

پاکستانی شہری کا مؤقف مجھے دھمکیوں کے باعث منصوبے میں شامل ہونا پڑا

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے خطرات کا علم تھا اور انہوں نے اپنے دفاع کے لیے پہلے قدم اٹھایا تاہم ایران کی حکومت ان تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے تہران کا مؤقف ہے کہ اس نے کبھی بھی امریکی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ صرف ایک فرد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست تک پھیل سکتے ہیں کیونکہ اس میں دو بڑے ممالک کے تعلقات اور سکیورٹی معاملات کا ذکر ہو رہا ہے اسی وجہ سے عالمی میڈیا اور تجزیہ کار اس مقدمے کو بہت توجہ سے دیکھ رہے ہیں

عدالت میں جاری اس مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں متوقع ہے اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ آصف مرچنٹ کے دعوے میں کتنی حقیقت ہے اور آیا اس پر لگائے گئے الزامات ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں

متعلقہ پوسٹس